ماحولیاتی بداخلاقیوں کے بغیر قربانی بھی بھلا کیا قربانی | دستک | DW | 20.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

ماحولیاتی بداخلاقیوں کے بغیر قربانی بھی بھلا کیا قربانی

قربانی کے لیے کیا ضروری ہے کہ اس کی بھدی نمائش بھی کی جائے؟ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر قربانی کے عمل کے دوران گند نہ ڈالا جائے تو شائد یہ قبول ہی نہیں ہو گی۔

اسماعیلیوں کے بارے میں ہمیں بہت ساری باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ ’کم بخت مارے‘ عید الاضحی پر قربانی نہیں کرتے۔ قربانی تو دور کی بات، عید کے تہوار سے ان کا کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے۔ کوئی قربانی نہ بھی کرے تو کیا فرق پڑتا ہے، مگر قربانی کا جانور جہاں لوگوں کی حیثیت کا تعین کرتا ہو وہاں والدین اور اساتذہ کے ایسے پراپیگنڈے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

ایک خوش عقیدہ انسان عید کے آس پاس ہنزہ جیسے اسماعیلی اکثریتی علاقے سے گزرے تو والدین اور اساتذہ کی اس بات پر یقین پختہ ہو جاتا ہے۔ حرام ہے جو دور دور تک آپ کو قربانی کا کوئی نام نشان تک نظر آ جائے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ نام نشان سے مراد کیا ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ جگہ جگہ جانور بندھے ہوئے ہوں۔گلی میں داخل ہوں تو گوبر کا ایک بھپکا آپ کا استقبال کرے۔ فضا میں پیشاب کی بو رچی بسی ہوئی ہو۔ گائے بکری کا چارا یہاں وہاں بکھرا پڑا ہو۔

کیچڑ کی چِکنی والی قسم کا آپ کو سامنا ہو۔ خواتین اور بچوں کو گلی سے گزرتے ہوئے دقت ہو رہی ہو۔ محلے کے بچے شام کو اپنے اپنے جانور 'میراتھن ریس‘ میں دوڑا رہے ہوں۔ جوان گزرتے ہوئے اپنے اپنے قربانی کے جانور کی نمائش کر رہے ہوں۔ کوئی جبڑوں میں ہاتھ ڈال کر دانت چیک کر رہا ہو اور کوئی ان جانوروں کا جسمانی معائنہ کرتے ہوئے ان کا حسب نسب معلوم کرنے کی کوشش میں ہو۔

قربانی والے دن سارے محلے کو اکٹھا کرکے قربانی کے جانور کو انٹرٹینمنٹ بنایا جائے۔ جانور گر جائے تو چھوٹے بڑے ایسے ہاڑا ہوڑی کر رہے ہوں جیسے کھیل کے دوران ہسپانوی سانڈ قابو میں آگیا ہو۔ ہر تیسرے شخص کے کپڑے خو نم خون ہوں۔ بچوں کے سامنے چھریاں لہرائی جارہی ہوں۔

قربانی مکمل ہوجائے تو گلی محلے میں آلائشیں بکھری پڑی ہوں۔ خون کہیں تیر رہا ہو اور کہیں  جم کر پاپڑ ہو گیا ہو۔ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ خون، پھیپھڑے اور چربی کی سڑاند بونس میں چلی آرہی ہو۔

ہماری پچھلی بقرہ عید تو کورونا کھاگئی۔ اُس سے پچھلی عید پسو کونز کے سائے میں گزری۔ عید کی نماز کے لیے گُلمت کی عید گاہ کی طرف چلے تو پورے راستے چار ٹانگوں پر چلنے والا کوئی نامزد حیوان نظر نہیں آیا۔

عید گاہ پہنچے تو عزیز میاں کی قوالی لگی ہوئی تھی۔ لوگ بے تکلف ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے یونیفارم میں ملبوس ایک دستے کی طرف اشارہ کرکے کہا، ''یہ منظم دستے عید گاہ کی انتظام کاری میں جُتے ہوئے ہیں۔‘‘ دائیں بائیں نظر دوڑا کر میں نے کہا، ''وہ توسب ٹھیک ہے مگر قربانی؟ قربانی نہیں کرتے کیا؟‘‘

تین بزرگوں نے ہاتھ سے پکڑا اور عید گاہ کی عقب میں لے گئے۔ یہاں انسان دو چار تھے اور جانور بے شمار تھے۔ کہنے لگے، ہمارے ہاں جو قربانی کرتا ہے وہ اپنے جانور کمیونٹی کی متعلقہ تنظیم کے حوالے کر دیتا ہے۔ عید سے تین دن پہلے جانور اِس میدان میں پہنچا دیے جاتے ہیں۔

کس کا جانور بڑا ہے کس کا چھوٹا ہے، یہ سوال خارج از بحث ہوتا ہے۔ کس نے جانور دیا اور کس نے نہیں دیا، اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ قربانی کے لیے رضاکار دستے پہلے سے تشکیل دے دیے جاتے ہیں۔ وہاں نمازِ عید کا سلام پھِرتا ہے یہاں چھری پِھر جاتی ہے۔

ایک  دستہ قربانی کرتا ہے اور باقی کے رضاکار گوشت کے حصے بنارہے ہوتے ہیں۔ ان حصوں میں تمام گھروں کا حصہ رکھا جاتا ہے۔ اس میں خوش حال بے حال، سنی، شیعہ، نمازی، بے نمازی، حاجی پاجی اور قربانی کرنے نہ کرنے والے سارے ہی گھرانے شامل ہوتے ہیں۔ سہہ پہر تک رضاکاروں کا ایک دستہ ٹاون کے ایک ایک گھر تک گوشت پہنچا دیتا ہے۔

بابا جی بہت فخر سے کہنے لگے کہ شام تک یہاں کا ہر گھر عیدِ قرباں میں حصہ دار ہوچکا ہوتا ہے مگر پورے ٹاؤن میں کہیں آپ کو خون کا ایک دھبہ ملے گا اور نہ آلائش کا ایک ٹکڑا نظر آئے گا۔

ایک صاحب نے کہا، ''آپ شام پانچ بجے تک یہاں دوبارہ آجائیں تو آپ حیرت سے سوال کریں گے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں قربانی ہوئی تھی؟‘‘ وعدے اور اشتیاق کے باجود میں شام کو نہیں جاسکا، مگر مجھے یقین ہے کہ صفائی کی ایسی ہی مثال قائم کی گئی ہوگی۔

ہنزہ کے لوگ اپنی تہذیب اور شائستگی پر فخر کر رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ بڑے بوڑھوں نے ہمیں ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ یہ لوگ قربانی نہیں کرتے۔ ماحول میں گند، وحشت اور تعفن گھولے بغیر قربانی بھی بھلا کوئی قربانی ہوتی ہے۔ جس قربانی کی کانوں کان کسی کو خبر نہ ہو اس میں برکت کیسے پڑ سکتی ہے؟ خدا مانے تو مانے، مگر ہم کیوں مانیں کہ یہ قربانی کرتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:22

قربانی کے جانوروں کی سب سے بڑی منڈی، کورونا ضوابط کی خلاف ورزیاں

DW.COM