’لشکرِ طیبہ کا بہت بڑا حمایتی ہوں‘ پرویز مشرف | حالات حاضرہ | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’لشکرِ طیبہ کا بہت بڑا حمایتی ہوں‘ پرویز مشرف

سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ شب ایک نجی پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے خود کو ’ لشکرِ طیبہ‘ کا حمایتی قرار دیا ہے۔

کالعدم مذہبی تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے خیراتی ادارے جماعت الدعوہ کی حمایت کا اعلان مشرف کی طرف سے اس وقت سامنے آیا ہے، جب اُن کی سیاسی جماعت ’آل پاکستان مسلم لیگ‘ کی جانب سے 23 جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی کے پروگرام11th Hour میں گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے اپنی لبرل سوچ کے برعکس ’مجلسِ وحدت المسلمین‘ اور ’سنی اتحاد کونسل‘ جیسی مذہبی جماعتوں سے اتحاد کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا،’’وہ ترقی پسند خیال کے حامی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں وہ مذہبی جماعتوں کے خلاف ہیں۔‘‘  ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ایک دلچسپ منظر ہوگا جب مذہبی جماعتیں لبرل سوچ کے حامیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی‘‘۔

 مشرف نے بہت واضح انداز میں کہا،’’وہ جماعت الدعوہ اور لشکرِ طیبہ کے سب سے بڑے حامی ہیں اور یہ جماعتیں بھی انہیں پسند کرتی ہیں۔‘‘ تاہم امریکا کو مطلوب حافظ سعید کو مشرف کے دورِ حکومت میں دو مرتبہ گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جنوری سن 2002 میں انہوں نے لشکرِ طیبہ پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

 معروف پاکستانی صحافی حامد میر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مشرف دوغلی پالیسی اور دو طرفہ کھیل کے ماہر ہیں‘‘۔ 

مشرف کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے مشرف حافظ سعید کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں ان کا یہ بیان پاکستانی سٹیبلشمنٹ کی جانب سے لشکرِ طیبہ کی سرپرستی کی تائید کرتا ہے۔

اس بات پر پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ماضی میں ہم کہتے تھےکہ یہ ساتھی ہیں تو ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا تھا لیکن، اب جنرل صاحب خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں۔‘‘

بعد ازاں اس پروگرام میں مشرف نے اینکر کو بتایا کہ وہ حافظ سعید سے حال ہی میں ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے جماعت الدعوہ اور لشکرِ طیبہ کی جانب سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدت پسندانہ کارروائیوں کا بھی واضح انداز میں اعتراف کیا۔ تاہم پروگرام میں دیے گئے انٹرویو میں سن 2008  کے ممبئی حملوں میں لشکر کے ملوث ہونے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ اقتدار میں جب بھارت سے مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے بات چل رہی تھی تب انہوں نے لشکرِ طیبہ پر پابندی عائد کی تھی۔

 حامد میر کے خیال میں مشرف کا یہ بیان پاکستان کو نقصان پہنچائے گا اور مشرف پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے لیے خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ماہرِ قانون عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا،’’ملک کے وزیراعظم کے موجودگی میں فوج کی طرف سے پراکسی وار کے لیے جہادی انڈسٹری چلانا بہت خطرناک کھیل ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ’زیرو سم گیم‘ سے ملک اور قوم کو بہت نقصان ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے بدھ کے دن حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم حافظ سعید امریکا کو مطلوب ہیں اور امریکا نے حافظ سعید کے سر  کی قیمت 10 ملین ڈالر کی رکھی ہے۔

DW.COM

اشتہار