’قصور کے بچوں کا کیا قصور ہے؟‘ | معاشرہ | DW | 18.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’قصور کے بچوں کا کیا قصور ہے؟‘

گزشتہ برس آٹھ سالہ بچی زینب کے ریپ اور قتل کے بعد پاکستانی پنجاب کا ضلع قصور ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ قصور میں تین بچوں کی لاشیں ملیں، جن کے بارے میں پولیس کو شبہ ہے کہ انہیں ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر ہیش ٹیگ قصور ٹرینڈ کر رہا ہے۔ گزشتہ روز ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں ایک ویران جگہ سے پولیس کو تین بچوں کی لاشیں ملیں۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ چونیاں میں دو بچوں کی گمشدگی کی رپورٹس ایک ماہ قبل درج کی گئی تھیں جب کہ تیسرا بچہ دو روز قبل لاپتہ ہوا تھا۔

پولیس نے فیضان نامی ایک آٹھ سالہ بچے کی شناخت کر لی ہے جب کہ دیگر دو بچوں کی لاشیں مسخ ہو جانے کے باعث ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے۔

پنجاب کے اسی ضلع میں ایک مرتبہ پھر بچوں کے ممکنہ ریپ اور قتل کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر ان واقعات کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

زینب کے قتل کے واقعے کے بعد اس وقت پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے اور سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اب ان تازہ واقعات کے بعد پنجاب حکومت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے اور معاشرتی رویوں پر بھی۔

بلال ناصر نامی ایک صارف نے لکھا، ''میں کہتا رہا کہ قصور واقعے کا کوئی سیاسی رنگ نہیں ہے یہ ہمارے معاشرے کے زوال کی نشانی ہے، تربیت کی ضرورت ہے۔‘‘

صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا، ''جب تک کرپٹ، سفارشی اور نااہل افسر تعینات ہوتے رہیں گے، غریب، بے بس اور بے گناہوں کے ساتھ ظلم ہوتا رہے گا۔‘‘

سیاست دان اور صحافی عامر لیاقت حسین نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں پوچھا، ''قصور میں بچوں کا کیا قصور؟‘‘

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاری کیے گیے پیغام میں لکھا گیا کہ ان کی حکومت نے 'آتے ہی ضلع قصور میں خصوصی طور پر سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرایا تھا، جس کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے‘۔

 

ویڈیو دیکھیے 02:22

قصور سانحے کے بعد مقامی افراد کا ردعمل

Audios and videos on the topic