1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
IWF Report Logo
تصویر: Yuri Gripas/REUTERS
اقتصادیاتپاکستان

قرض کی فراہمی، آئی ایم ایف نے پاکستان سے مزید مطالبے کر دیے

28 جون 2022

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے پاکستان کو نئے اقتصادی اور مالیاتی اہداف دیے گئے ہیں۔ ان اہداف کو پورا کرنے کے بعد ہی پاکستان کو قرض کی اگلی قسط مل سکے گی۔

https://www.dw.com/ur/%D9%82%D8%B1%D8%B6-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C-%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D9%81-%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%DB%92-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DB%92/a-62291782

پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے انہیں نئے اہداف دیے گئے ہیں تاہم ان کی جانب سے ان اہداف کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ ان اہداف پر اتفاق ہونے اور ان کی توثیق کے بعد ہی یہ بین الاقوامی ادارہ پاکستان کا بیل آوٹ پیکیج بحال کر سکتا ہے۔  دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اکنامک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''مجھے صبح سویرے وزیر خزانہ کا پیغام ملا  ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے ایک بلین ڈالر کے بجائے دو بلین ڈالر حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

ان دنوں پاکستانی اور آئی ایم ایف حکام کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف،  شہباز حکومت کی طرف سے متعارف کروائی جانے والی اصلاحات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر پاکستان آئی ایم ایف کے تمام مطالبات پورے کرتا ہے تو اس کو مالی امداد کی اگلی قسط ادا کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کا اقتصادی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتا جا رہا ہے اور اسے آئی ایم ایف کی طرف سے مالی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

 پاکستان کے ذرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اسے غیرملکی ادائیگیوں کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ٹیکس جمع کرنے کے لیے ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ملک میں اشیائے خورو نوش اور گندم جیسی بنیادی ضروریات زندگی بھی مہنگی ہو چکی ہیں۔

پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس صرف 8.2 بلین ڈالر کے ذخائر باقی بچے ہیں اور یہ بمشکل چند ہفتوں کی برآمدات کے لیے کافی ہیں۔

حکومت پاکستان گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کر چکی ہے لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ تمام تر اقدامات ابھی بھی ناکافی ہیں۔ پاکستان نے سن 2019ء میں آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر قرض حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن آئی ایم ایف نے تین اقساط کے بعد اس پروگرام کو منجمد کرتے ہوئے آئندہ کے لیے قسط روک رکھی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حکومت معاہدے کی پاسداری کرنے اور شرائط پر پورا اترنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کا پیکیج بحال نہ ہوا تو جنوبی ایشیا کی اس جوہری طاقت کو دیوالیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ سخت انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ  13 بلین ڈالر تک بڑھ چکا ہے۔

ا ا / ر ب ( روئٹرز)