قاضی عیسیٰ کے خلاف ریفرنس: وکلا کی ہڑتال اور احتجاج | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

قاضی عیسیٰ کے خلاف ریفرنس: وکلا کی ہڑتال اور احتجاج

فائزعیسیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام جائیداد کو اپنے اثاثوں کی فہرست میں ظاہر نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے پر آج ملک بھر کے وکلا ہڑتال کر رہے ہیں۔

ماضی میں فائز عیسیٰ کے تقرر کے خلاف بھی درخواست دی گئی تھی، جس کو متعلقہ عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ حال ہی میں فوج کے حوالے سے ان کے تاثرات، جو انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران دیے تھے، اس کے خلاف بھی ایک درخواست دی گئی ہے لیکن اس درخواست کا موجودہ ریفرنس سے تعلق نہیں ہے۔

اس ریفرنس کی سماعت آج بروز جمعہ دوپہر دو بجے ہو رہی ہے۔ آج صبح ہی سپریم کورٹ کے دروازے پر وکلا نے پہنچا شروع کیا۔ وکلا کے رہنما حامد خان، صلاح الدین گنڈا پور، شفقت چوہان اور سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی بھی سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر دھرنے میں بیٹھے ہیں۔ اس موقع پر وکلا نے قاضی عیسیٰ کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

ملک کے کچھ حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ وکلا برادری تقسیم ہے۔ پنجاب بار کے کچھ وکلا اور سندھ میں بھی کچھ وکلا نے اس ریفرنس کی حمایت کی ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر بیرسٹر علی ظفر بھی اس ریفرنس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملک کے وکلا کی اکثریت اس ریفرنس کی حامی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ آئین میں ججز کے احتساب کے ایک ہی طریقہ ہے اور یہ کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔ اگر یہ ریفرنس بد نیتی پر مبنی ہے تو اس کا بھی فیصلہ کونسل ہی کرے گی۔ یہ ہی رائے وکلا کی اکثریت کی ہے اور یہ ہی میری رائے ہے۔ میرے خیال میں اس احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں اور قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے۔ میں اس ریفرنس کے حق میں ہوں۔‘‘

Qazi Faez Isa (Supreme Court of Pakistan)

فائزعیسیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام جائیداد کو اپنے اثاثوں کی فہرست میں ظاہر نہیں کیا۔

تاہم ہڑتال کرنے والے وکلا کا دعویٰ ہے کہ وکلا کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے  چند ایجنٹس اس ہڑتال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اسٹیبلشمنٹ نواز چند  لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وکلا اس ریفرنس کے حق میں ہیں لیکن ملک بھر کی بار کونسلز اور وکلا کی بہت بڑی اکثریت اس ریفرنس کے خلاف ہے جو ایک ایماندار جج کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ وکلا اس ریفرنس کے خلاف متحد ہیں اور جسٹس قاضی کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج ہم اپنے احتجاج سے یہ ثابت بھی کریں گے۔‘‘

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ملک میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہونا چاہیے اور قاضی عیسیٰ کی ایسی جائیدادیں ہیں جن کو انہوں نے ظاہر نہیں کیا تو ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ لیکن سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد کے خیال میں مسئلہ جائیدادوں کا ہے ہی نہیں۔

انہوں نے اس ریفرنس پر تنقید کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’فیض آباد دھرنا کیس میں اسٹیبلشمنٹ قاضی فائز سے ناراض ہے اور ان کو اس کی ہی سزا دی جا رہی ہے۔ ریفرنس ایم کیو ایم کے لوگ فروغ نسیم اور انو منصور لے کر آئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کر رہے ہیں۔ لیکن ملک بھر کے وکلا متحد ہیں اور وہ قاضی فائز کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

یاسین آزاد نے الزام لگایا کہ حکومت وکلا کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے، ’’کل ہی کل میں آٹھ لا آفسیرز کا تعین کیا گیا ہے۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ حکومت وکلا کو خرید کر انہیں تقسیم کرنا چاہتی ہے لیکن چند ضمیر فروشوں کے ساتھ وکلا برادری نہیں جائے گی۔‘‘

سپریم کورٹ میں احتجاج کے وقت تقریبا سو کے قریب وکلا تھے جب کہ وکلا کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ درجنوں کی تعداد میں پولیس اہلکار بھی سپریم کورٹ عمارت کے اردگرد تعینات ہیں۔ سپریم کورٹ کی پارکنگ گاڑیوں سے بھری ہوئی ہے اور امکان ہے کہ آج دوپہیر وکلا کی ایک بڑی تعدا د سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوگی۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس ریفرنس کی مخالفت کی ہے اور ایک خط کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور اسلام آباد ضلعی عدالتوں میں بھی آج ہڑتال ہے۔

DW.COM