فیکٹ چیک: کلاؤڈ سیڈنگ سے ایران میں بارش نہیں ہوئی تھی
28 اپریل 2026
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہو رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایک موسمیاتی تحقیقاتی مرکز کی مبینہ تباہی کے باعث ایران میں شدید بارشیں ہوئیں۔
یہ وائرل سازشی نظریہ 'کلاؤڈ سیڈنگ‘ نامی ٹیکنالوجی اور متحدہ عرب امارات کے ایک ادارے 'ریسرچ پروگرام فار رین انہانسمنٹ سائنس‘ پر مرکوز ہے۔
2018 میں ایک ایرانی جنرل نے ملک میں خشک سالی کے حوالے سے ایک نظریہ پیش کیا تھا کہ اسرائیل ایران کے بادل چرا رہا تھا۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان سے رجوع کر لیا، جب ایران کے محکمہ موسمیات نے اس کی تردید کر دی تھی۔
اب اسی نوعیت کا ایک دعویٰ ایران جنگ کے دوران دوبارہ سامنے آیا ہے، اور یہ محض ایک جنرل کی باتوں تک محدود نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کرنے والی پوسٹس میں ''موسمیاتی جنگ‘‘کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ڈیموں کے بھرنے اور شاہراہوں پر برف جم جانے کو خطے میں موسمیاتی مداخلت کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
تو حقیقت کیا ہے؟ کیا کوئی ملک واقعی سرحدوں کے پار بارش کروا سکتا ہے؟ ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک نے ماہرین طبیعیات اور انجینئروں سے رابطے کیے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھا جا سکے۔
دعویٰ
ایکس پر ایک پوسٹ میں، جسے 3.4 ملین بار دیکھا گیا، ایک صارف نے لکھا ، ''واہ، ایران نے متحدہ عرب امارات میں 'کلاؤڈ سیڈنگ‘ ریڈارز کو تباہ کر دیا اور اچانک تہران میں درجہ حرارت 5 ڈگری کم ہو گیا (جو پہلے کبھی نہیں ہوا) اور اب بارش اور برفباری ہو رہی ہے۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ ہی برف سے ڈھکی ہوئی ایک مسجد کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔ اسی طرح کے دعوے سوشل میڈیا پر ہر جگہ دیکھنے میں آئے۔
یہ دعویٰ غالباً افغانستان میں ایرانی سفارت خانے کی ایک پوسٹ سے شروع ہوا، جسے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ ایک بڑے ایرانی اخبار کے مطابق سفارت خانے نے لکھا تھا، ''ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خفیہ موسمیاتی مرکز کو تباہ کرنے کے بعد خطے کے موسم کے پیٹرن مکمل طور پر بدل گئے۔ عراق اور ایران اب ہفتہ وار شدید بارشوں اور درجہ حرارت میں 5 ڈگری کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
تاہم ڈی ڈبلیو کے فیکٹ چیک میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔
متحدہ عرب امارات کا بارش پروگرام
متحدہ عرب امارات میں واقعی ایک مرکز موجود ہے جسے 'ریسرچ پروگرام فار رین انہانسمنٹ سائنس‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ کوئی خفیہ موسمیاتی تبدیلی کا مرکز نہیں ہے، جیسا کہ ایران کے سفارت خانے کی حذف شدہ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا۔
اس مرکز کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ادارہ 1990 سے قائم ہے اور بارش میں اضافہ کرنے والی تحقیق کو فروغ دینے اور ایسی جدتوں کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہے جو عالمی سطح پر واٹر سکیورٹی کو مضبوط بناتی ہیں۔
گوگل نیوز پر تلاش کرنے سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس مرکز کو کسی ایرانی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہو، اور نہ ہی کسی خبر رساں ادارے نے اس کی اطلاع دی، حالانکہ یہ ادارے خطے میں شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی باقاعدگی سے کوریج کرتے ہیں۔
اس ادارے نے اشاعت کے وقت تک ڈی ڈبلیو کی فون کالز یا ای میلز کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
کلاؤڈ سیڈنگ کیا ہے؟
کلاؤڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی بیسویں صدی کے وسط سے موجود ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا جس کے ذریعے ان بادلوں سے بارش کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو پہلے ہی برسنے کے قریب ہوں۔
یہ کام اس طرح کیا جاتا ہے کہ سلور آیوڈائڈ یا سوڈیم کلورائڈ جیسے کیمیائی اجزاء کو ہوائی جہازوں یا زمین پر نصب لانچرز کے ذریعے بادلوں میں چھوڑا جاتا ہے۔
امپیریل کالج لندن میں فضائی طبیعیات کے پروفیسر ایڈورڈ گریسپیئرٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خالی جگہ سے بارش پیدا نہیں کرتی۔ آپ صاف آسمان میں اچانک سیڈنگ کر کے بادل اور بارش پیدا نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بادل پہلے سے موجود ہوں اور برسنے کے قریب ہوں، اور آپ صرف انہیں اس حد تک پہنچاتے ہیں کہ وہ برس پڑیں۔‘‘
چونکہ بادلوں کا پہلے سے بارش کے لیے تیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے اسے عام طور پر چھوٹے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کسی اسکئی ریزورٹ کے علاقے میں برفباری کو بڑھانے کے لیے۔ متحدہ عرب امارات میں اس کا مقصد پانی کی کمی سے نمٹنا ہے۔
گریسپیئرٹ نے کہا کہ اب تک کلاؤڈ سیڈنگ کی ٹیکنالوجی پورے خطے کے موسمی پیٹرن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ادارت: مقبول ملک