فوجی ٹوپیاں پہننےکی اجازت لی گئی تھی،ترجمان آئی سی سی | کھیل | DW | 11.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

  فوجی ٹوپیاں پہننےکی اجازت لی گئی تھی،ترجمان آئی سی سی

  آئی سی سی کی ترجمان کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں  بھارتی کرکٹرز نے فوجی ٹوپیاں اجازت حاصل کرنے کے بعد پہنی تھیں۔

فوجی ٹوپیاں سابق انڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھارتی ٹیم میں تقسیم کی تھیں۔جو ان کے مطابق پلوامہ حملہ میں ہلاک چالیس فوجیوں سے اظہار افسوس تھا۔آئی سی سی کی ترجمان کلیئر فرلونگ کے مطابق یہ مرنے والے فوجیوں کے لواحقین کے لیے فنڈ جمع کرنےکا ایک طریقہ تھا۔

 

 خبر رساں ادارے اے پی کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کےچیرمین احسان مانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم کی فوجی ٹوپیاں پہنے کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے بات کی گئی ہے اور بھارت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ بظاہر کرکٹ کھیل کے نگران عالمی ادارے کی ترجمان کی وضاحت کے بعد پاکستانی کرکٹ بورڈ کا مطالبہ بے اثر ہو کر رہ گیا ہے۔

خیال رہے کہ آٹھ مارچ کو بھارتی ٹیم نے رانچی میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں فوجی ٹوپیاں پہن کر میچ کھیلا تھا لیکن اس میچ میں اسے شکست کا سامنا رہا تھا۔ پاکستانی وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ٹیم کی اس حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فعل کو جینٹلمین گیم کو سیاست کی نذر کرنے کی سازش قرار دیا.

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بھارت نے پہلے بھی دو مرتبہ کرکٹ کو سیاست کا شکار بنایا جس سے اس کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ مانی کے مطابق ماضی میں عمران طاہر اور معین علی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی لہذا بھارت کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ پانچ سال قبل انگلینڈ کےآل راونڈر معین علی نے ہاتھ میں ایک بینڈ پہن رکھا تھا جس پہ لکھا تھا٫٫سیو غزہ‘‘ اور ٫٫آزاد فلسطین‘‘۔جبکہ ساوتھ افریقن لیگ اسپنر عمران طاہر نے پاکستانی نعت خوان جنید جمشید کی شرٹ پہن رکھی تھی جو انہوں نےاسٹیڈیم میں سر عام دکھائی تھی۔

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی سے متعلق سوال پر احسان مانی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں سیکیورٹی ماہرین کو بلانے کا مقصد یہاں کی سیکیورٹی پر بریف کرنا ہے۔

DW.COM