’فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا کوئی نوٹس ہی نہیں‘ | معاشرہ | DW | 22.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا کوئی نوٹس ہی نہیں‘

حمیدو فاخوری کو وہ لمحہ اب تک یاد ہے، جب مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز نے معذور فلسطینی محمد حبلی کو ہلاک کیا تھا۔ ویسٹ بینک کے شہر طولکرم کا رہائشی یہ نوجوان حمیدو کے ہمسائے میں واقع ایک کیفے میں کام کرتا تھا۔

حمیدو فاخوری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ویسٹ بینک کے شمالی شہر طولکرم میں اسرائیلی فورسز کے آپریشن کے بعد اس نے ذہنی معذور محمد حبلی کو سڑک پر دیکھا، جو اپنی لکڑی کی بیساکھیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ پھر اچانک حمیدو نے فائرنگ کی آواز سنی اور چند ساعتوں میں ہی حبلی مردہ حالت میں وہاں پڑا ہوا تھا۔

حمیدو نے بتایا، ''میں یہ کبھی نہیں بھول سکتا اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس غریب شخص کو کس طرح ہلاک کیا گیا۔‘‘ اس واقعے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف فلسطینیوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ سخت دباؤ کے باعث اسرائیلی حکام نے اس واقعے سے متعلق حقائق جاننے کی خاطر چھان بین کا عمل شروع کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حبلی کی ہلاکت اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی۔ اسرائیلی فورسز نے اعتراف کیا کہ فائرنگ کی گئی تھی جبکہ حبلی کی ہلاکت کی اس مبینہ وجہ سے بھی انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن سات ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کیس کی چھان بین میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس تفتیش کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا اسرائیلی فوجیوں نے کسی مجرمانہ عمل کا ارتکاب کیا تھا۔

اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فوجی فائرنگ کے ایسے چوبیس واقعات کی تفتیش کر رہی ہے، جن میں خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مجرمانہ طور پر کارروائی کی تھی۔ یہ تمام واقعات سن دو ہزار اٹھارہ کے ہیں۔ تاہم اے پی کے مطابق ان تمام کیسوں میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نہ تو کسی کو مجرم قرار دیا گیا اور نہ ہی کسی پر فرد جرم عائد کی گئی۔ زیادہ تر واقعات میں فوج نے اہم عینی شاہدین اور مقتولین کے رشتہ داروں کے انٹرویو تک نہ کیے۔

گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی طرف سے شوٹنگ کے تقریباﹰ دو سو واقعات کی مجرمانہ تفتیش کی گئی۔ اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم B'Tselem  کے مطابق یہ فائرنگ کے ایسے واقعات تھے، جن میں فلسطینی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے صرف دو واقعات میں سزائیں سنائی گئیں۔ اس ادارے نے اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینیوں پر فائرنگ کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس تناظر میں نظام انصاف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ ویسٹ بینک میں باقاعدہ طور پر فوجی کارروائیوں کی ضرروت ہے تاکہ یہودی آبادیوں کا فلسطینی حملہ آوروں سے تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اپنے ایک تازہ بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ فوج پر عائد الزامات کی چھان بین کا عمل تیز ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات شفاف اور مؤثر ہونا چاہییں اور اس تناظر میں تمام امکانات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تاہم سکیورٹی سے جڑے خدشات اور زمینی حالات کے باعث تحقیقات کا یہ عمل 'پیچیدہ اور طویل‘ ہو جاتا ہے۔

ع ب / م م / اے پی

DW.COM

Audios and videos on the topic