فریزر میں دو شیرخوار بچوں کی لاشیں، جرمن خاتون گرفتار | معاشرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فریزر میں دو شیرخوار بچوں کی لاشیں، جرمن خاتون گرفتار

جرمنی کے ایک مشرقی قصبے میں ایک گھر سے فریزر سے دو شیرخوار بچوں کی لاشیں ملنے کے بعد ایک چھیالس سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کو فریزر میں ان لاشوں کی موجودگی اطلاع اس خاتون کے ایک سابق شریک حیات نے دی تھی۔

جرمن دارالحکومت برلن سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ملک کے ایک مشرقی صوبے میں بَین ڈورف نامی قصبے کے ایک اپارٹمنٹ سے ایک فریزر میں رکھی گئی یہ دونوں لاشیں برآمد کیے جانے کے بعد اسی گھر میں رہنے والی ایک 46 سالہ خاتون کو آج بدھ تین جنوری کے روز حراست میں لے لیا گیا۔

جرمنی میں چھ نوجوانوں کی لاشیں برآمد

جنوبی جرمن صوبے میں سات نومولود بچوں کی لاشیں برآمد

جرمنی کے کثیر الاشاعت روزنامہ ’بِلڈ‘ نے لکھا کہ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ دونوں لاشیں نومولود بچوں کی تھیں یا چند ہفتے تک کی عمر کے شیرخوار بچوں کی۔ ملزمان کے ذاتی کوائف کے تحفظ کے جرمن قانون کے تحت پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گرفتار کی گئی خاتون کا نام کیا ہے اور آیا وہ خود ہی ان دونوں بچوں کی ماں بھی تھی۔

Sächsisches Polizeiwappen

سیکسنی انہالٹ کی پولیس نے یہ لاشیں بَین ڈورف نامی قصبے میں برآمد کیں

پولیس نے تاہم یہ تصدیق کر دی کہ ان شیرخوار بچوں کی لاشیں ایک ایسے جرمن شہری کی طرف سے منگل دو جنوری کی شام مہیا کردہ اطلاعات کے بعد برآمد کی گئیں، جو ماضی میں ملزمہ کا شریک حیات رہ چکا ہے۔

تفتیشی اہلکاروں کے مطابق یہ بات طے ہے کہ برآمد کیے جانے سے قبل یہ دونوں لاشیں ایک طویل عرصے سے اسی فریزر میں موجود تھیں۔

ڈی پی اے نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ فی الحال یہ امر بھی واضح نہیں کہ ان دونوں بچوں کی موت کب اور کن حالات میں ہوئی۔

اس جرم کے محرکات کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے، جس دوران ان دونوں لاشوں کے پوسٹ مارٹم بھی کیے جائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنی گرفتاری کے وقت یہ خاتون اپنے ایک تین سالہ بچے کے ہمراہ اسی فلیٹ میں رہ رہی تھی۔

وفاقی جرمن صوبے سیکسنی انہالٹ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں پولیس کی ایک ترجمان نے بتایا کہ ممکن ہے کہ یہ دونوں بچے اسی خاتون کے ہوں کیونکہ ماضی میں بھی ملک میں چند ایسے واقعات دیکھنے میں آ چکے ہیں کہ کسی بہت جذباتی ماں نے اپنے ’مردہ بچوں سے دوری اختیا رکرنے کے بجائے اپنے بچوں کی لاشوں کو اپنے ہی پاس رکھنے‘ کو ترجیح دی اور اس سلسلے میں قانونی تقاضوں کو سرے سے نظر انداز کر دیا۔

ویڈیو دیکھیے 00:29
Now live
00:29 منٹ

ستّر افراد کے قتل میں مطلوب پاکستانی عدالت میں پیش

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار