فرانس نے مسعود اظہر کے تمام اثاثے منجمد کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 15.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

فرانس نے مسعود اظہر کے تمام اثاثے منجمد کر دیے

فرانسیسی حکومت نے جیش محمد کے بانی اور رہنما مسعود اظہر کے تمام تر اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانس کے مطابق مسعود اظہر کو یورپی یونین کی مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

فرانس کی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں جیش محمد کے بانی مسعود اظہر کے تمام تر اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق فرانس اس حوالے سے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی مذاکرات کرے گا اور کوشش کی جائے گی کہ مسعود اظہر کو یورپی یونین کی اس فہرست میں شامل کیا جائے، جس میں ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے، جن پر شبہ ہو کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسلام آباد حکومت پر اس حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرے، جو مبینہ طور پر بھارت میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں۔ جیش محمد نے چودہ فروری کو ہونے والے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں بھارت کے کم از کم چالیس پیراملٹری اہلکار مارے گئے تھے۔سلامتی کونسل میں چین کا موقف: کیا پاکستان کی محبت میں ایسا کیا گیا؟

قبل ازیں چین نے سلامتی کونسل کی طرف سے کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ ایشیاء پیسیفک انسٹیٹوٹ آف چائینز اکیڈمی آف سوشل سائنسز سے وابستہ ڈاکٹر Liu Xiaoxue  کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اگر بھارت جامع ثبوت دے تو چین دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات کئی بار کہی جا چکی ہے لیکن بھارت نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اس کے علاوہ چین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس مسئلے کے حوالے سے سلامتی کونسل میں طریقہ کار سے متعلق مسائل بھی ہیں۔‘‘

سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کے خلاف یہ قرارداد امریکا، برطانیہ اور فرانس کی حمایت سے پیش کی گئی تھی۔ چین کی طرف سے اسے ویٹو کرنے کے بعد بھارت نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ اقوام متحدہ ميں بيجنگ حکومت کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ اس معاملے ميں ذمے دارانہ رويہ اختيار کيا گيا ہے اور یہ کہ فريقين کے ساتھ مشاورت کے ذريعے کوئی حل تلاش کيا جا رہا ہے۔

ا ا / ع ب ( روئٹرز، ڈی پی اے)

DW.COM