غیرملکیوں کو پناہ دینے کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہو گا | مہاجرین کا بحران | DW | 24.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

غیرملکیوں کو پناہ دینے کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہو گا

ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں پناہ گزینوں کی تقسیم کے لازمی منصوبے کے تحت تارکین وطن کو پناہ دینے یا نہ دینے کے بارے میں فیصلہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کی رائے میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی جانب سے ریفرنڈم کا اعلان اس لیے کیا گیا ہے تا کہ وہ خود کو یورپی کوٹہ سسٹم کی مخالفت کرنے والوں کے ترجمان کے طور پر پیش کر سکیں اور یورپی یونین میں اپنی مضبوط حیثیت کا اظہار کر سکیں۔

مہاجرین کی وطن واپسی میں تعاون کرو، ورنہ امداد بند

پناہ گزین مایوس ہو کر اپنے اپنے وطن واپس جانے لگے

اوربان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم میں ہنگری کے عوام کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ: ’کیا آپ چاہتے ہیں ہنگری کے ایوان سے منظوری حاصل کیے بغیر یورپی یونین ہنگری میں غیر ملکیوں کو یونین کے لازمی کوٹے کے تحت آباد کرے؟‘

وکٹر اوربان کا کہنا تھا کہ عوام کی اکثریت نے اگر اس سوال کا جواب ’نہیں‘ میں دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ہنگری کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہیں اور یورپی یونین کے لازمی کوٹے کے منصوبے کو رد کرتے ہیں۔

یورپی یونین کے تارکین وطن کی تقسیم کے منصوبے کے تحت ایک لاکھ 60 ہزار پناہ کے متلاشی افراد کو اٹلی اور یونان سے یونین کے رکن ممالک میں منتقل کیا جانا تھا۔ ہنگری اور دیگر مشرقی یورپی ممالک اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں جب کہ صرف چند یورپی ممالک نے اس منصوبے کے تحت مہاجرین کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے کی حامی بھری ہے۔ اب تک اس منصوبے کے تحت بمشکل چھ سو پناہ گزینوں کو ہی منتقل کیا جا سکا ہے۔

ہنگری کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کو ہنگری میں پناہ دینے سے ملک کے باشندوں پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کی رائے میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ سے آنے والے مسلمان تارکین وطن کی وجہ سے ہنگری کا ’یورپی، نسلی اور مذہبی تشخص‘ بھی مجروح ہو گا۔

وکٹر اوربان کا کہنا تھا، ’’بوڈاپسٹ حکومت کی رائے میں یہ اختیار نہ تو یورپی یونین کو حاصل ہے اور نہ کسی اور یورپی رہنما یا ادارے کو۔ ہمارے خیال میں عوام کی مرضی کے بغیر یورپی یونین کی جانب سے لازمی کوٹے کا اطلاق طاقت کے ناجائز استعمال کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وکٹر اوربان اس مسئلے پر جرمنی اور یورپی یونین سے اختلاف رکھنے والے ممالک کی قیادت کر کے یونین میں ہنگری کا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔

پالیسی سلوشن نامی ادارے سے وابستہ سیاسی امور کے تجزیہ نگار ٹماس بوروس کی رائے میں، ’’وکٹر اوربان یورپ میں جاری تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی قوت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یورپ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کا سیاسی اثر و رسوخ کتنا زیادہ ہے۔‘‘

علاوہ ازیں ہنگری کی جانب سے کوٹہ سسٹم کے خلاف ریفرنڈم کروانے کا اعلان اس کی مخالفت کرنے والے پولینڈ، چیک جمہوریہ اور سلوواکیہ جیسے ممالک کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ ریفرنڈم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پچاس فیصد سے زیادہ رائے دہندگان ریفرنڈم میں حصہ لیں۔

DW.COM

اشتہار