غزہ شہر پر اسرائیلی فضائی حملے، کم از کم 32 افراد ہلاک
وقت اشاعت 13 ستمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- غزہ شہر پر اسرائیلی فضائی حملے، کم از کم 32 افراد ہلاک
- لبنان: فلسطينی گروپس کو غير مسلح کرنے کا عمل شروع
- سوڈان میں انسانی بحران، سویلین حکومت کی بحالی کا بین الاقوامی مطالبہ
- ایک اور یوکرینی گاؤں پر قبضے کا روسی دعویٰ
- جنوبی وزیرستان میں فوجی قافلے پر حملہ، 12 پاکستانی فوجی ہلاک
- غزہ شہر سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہيں، اسرائیلی فوج
- برلن میں غزہ کے حق میں بڑی ریلی
- غزہ میں اسرائیلی حملوں ميں تیزی، مزید 50 فلسطینی ہلاک
- چارلی کرک کی تحریک ختم نہیں ہو گی، اہلیہ کا عزم
- یمن سے داغا گیا میزائل فضا میں تباہ کر دیا، اسرائیل
- نیپال میں کشیدگی کے بعد معمولاتِ زندگی بحال
غزہ شہر پر اسرائیلی فضائی حملے، کم از کم 32 افراد ہلاک
غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق ہفتے کو غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 12 بچے بھی شامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر حملے تیز کر دیے ہیں اور کئی بلند عمارتیں تباہ کر دی ہیں۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے ان عمارتوں میں نگرانی کا سامان نصب کر رکھا تھا۔ اسرائیل فوج مقامی افراد سے شہر خالی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسرائیل غزہ سٹی کو حماس کا آخری گڑھ قرار دیتا ہے۔
طبی حکام کے مطابق غزہ سٹی کے شیخ رضوان محلے میں ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک ماں اور اس کے تین بچے شامل تھے۔
امدادی کارکنوں کے مطابق بڑھتے حملوں اور انخلا کی اپیلوں کے بعد حالیہ ہفتوں میں شہر سے نکلنے والوں کی تعداد میں تیزی آئی ہے، تاہم کئی خاندان لاگت یا بار بار بے گھر ہونے کے خوف سے اب بھی غزہ سٹی میں ٹھہرے رہنے پر مصر ہیں۔
لبنان: فلسطينی گروپس کو غير مسلح کرنے کا عمل شروع
فلسطینی لبریشن آرمی (پی ایل او) کے رہنما عبدالہادی الاسدی نےکہا ہے کہ فلسطینی دھڑوں نے ہفتے کے روز لبنان کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ عین الحلوہ سے ہتھیار لبنانی فوج کے حوالے کر دیے ہیں۔ یہ عمل ملک میں غیر ریاستی مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی سرکاری کوشش کا حصہ ہے۔
لبنانی فوج کے مطابق اسے پانچ ٹرک ہتھیار، گولے اور گولہ بارود عین الحلوہ کیمپ سے اور تین ٹرک بداوی کیمپ سے موصول ہوئے۔
لبنان میں اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA کے مطابق تقریباً دو لاکھ بائیس ہزار فلسطینی پناہ گزین مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں، جب کہ ان پر مکمل ریاستی کنٹرول نہیں ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے مئی میں بیروت کے دورے کے دوران لبنانی صدر جوزف عون سے اتفاق کیا تھا کہ فلسطینی مہاجر کیمپوں میں موجود ہتھیار لبنانی حکام کے حوالے کر دیے جانا چاہیئں۔ یہ عمل گزشتہ ماہ بیروت اور جنوبی لبنان کے کیمپوں سے شروع ہو چکا ہے۔
تاہم حماس اور اس کی اتحادی تنظیم اسلامک جہاد نے ابھی تک غیر مسلح ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں، پی ایل او سے تعلق نہیں رکھتیں۔
سوڈان میں انسانی بحران، سویلین حکومت کی بحالی کا بین الاقوامی مطالبہ
امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور مصر نے جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں سوڈان میں تین ماہ کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور نو ماہ کے اندر اقتدار کی سویلین حکومت کو منتقلی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ منتقلی کا یہ عمل ’’سوڈانی عوام کی خواہشات کے مطابق آزاد، سویلین قیادت والی، شفاف اور جواب دہ حکومت کے قیام‘‘ پر مبنی ہونا چاہیے۔
اپریل 2023 سے سوڈان میں فوج، جو ریاستی اداروں پر قابض ہے اور نیم فوجی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری خانہ جنگی نے دسیوں ہزار افراد کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اسے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دے رہی ہے۔
ایک اور یوکرینی گاؤں پر قبضے کا روسی دعویٰ
روس کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ روسی فوج نے ڈونیٹسک خطے کی سرحد کے قریب دنیپروپیترووسک کے یوکرینی علاقے میں واقع ایک گاؤں نوومیکولائیوکا پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم یوکرینی فوجی ماہرین کی آن لائن میپنگ سروس کے مطابق یہ گاؤں تاحال کییف کے کنٹرول میں ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس روسی دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
روسی افواج تعداد اور اسلحے میں یوکرینی فوج سے کہیں زیادہ ہیں اور کئی ماہ سے مشرقی محاذ پر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یوکرین نے اگست کے آخر میں پہلی بار تسلیم کیا تھا کہ روسی فوجی دنیپروپیترووسک ریجن میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس وقت روس یوکرین کے تقریباً بیس فیصد حصے پر قابض ہے۔
کریملن کا مطالبہ ہے کہ یوکرین مشرقی دونباس علاقے سے اپنی فوجیں نکالے، جسے کییف نے مسترد کر دیا ہے۔
وولودیمیر زیلینسکی نے جمعے کو کہا کہ ولادیمیر پوٹن کا مقصد ’’پورے یوکرین پر قبضہ‘‘ ہے اور وہ اُس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک یہ ہدف حاصل نہ ہو جائے، چاہے کییف کچھ علاقہ چھوڑنے پر راضی بھی ہو جائے۔
ادھر کریملن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت ’’ٹھہرے ہوئے‘‘ ہیں کیونکہ گزشتہ چند ماہ میں کئی بار کوششوں کے باوجود کوئی سفارتی حل سامنے نہیں آ سکا۔
جنوبی وزیرستان میں فوجی قافلے پر حملہ، 12 پاکستانی فوجی ہلاک
پاکستان کے قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان میں ہفتے کو ایک فوجی قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 12 فوجی اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔
فوجی قافلہ افغانستان کی سرحد کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں گشت پر تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے اسے نشانہ بنایا۔ پاکستانی فوج کے مطابق جھڑپ کے دوران 13 شدت پسند بھی مارے گئے۔
حملے کے بعد کئی گھنٹے تک ہیلی کاپٹرز زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے اور حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف رہے۔
غزہ شہر سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہيں، اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں شدید حملوں کے بعد غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد دیگر علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔
فوج کے عربی ترجمان کرنل اوِخائے اَدرعی نے ایکس پر لکھا، ’’ فوجی اندازوں کے مطابق، اپنی سلامتی کے پیشِ نظر غزہ سٹی کے ایک چوتھائی سے زیادہ باشندے شہر چھوڑ چکے ہیں۔‘‘
برلن میں غزہ کے حق میں بڑی ریلی
جرمن دارالحکومت برلن میں ہفتے کو’’غزہ میں نسل کشی بند کرو‘‘ کے نعروں کے ساتھ سے ایک بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تقریباً 15,000 افراد نے اپنا نام رجسٹر کرایا ہے۔ برطانوی راک بینڈ پنک فلوئڈ کے بانی راجر واٹرز نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے اس ریلی سے خطاب کریں گے۔
ریلی کی شریک منتظم اور بائیں بازو کی عوامی جماعت بی ایس ڈبلیو کی سربراہ سارا واگن کنیشٹ نے کہا کہ وہ راجر واٹرز پر عائد سامیت دشمنی کے الزامات مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہود دشمنی نہیں کہا جانا چاہیے۔‘‘
جنوبی اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملے کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی عسکری کارروائی کو سارا واگن کنیشٹ فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتی آئی ہیں، جبکہ اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اسے یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کو ختم کرنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
ریلی کا مقصد نہ صرف غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی ترسیل اور جرمنی میں دفاعی اخراجات بڑھانے کی مخالفت بھی ہے۔ مظاہرین مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل اور یوکرین جنگ کے پرامن حل کے لیے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
چارلی کرک کی تحریک ختم نہیں ہو گی، اہلیہ کا عزم
چارلی کرک کے قتل کے بعد امریکی حکام کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے اعلان کے فوراً بعد ان کی اہلیہ ایرِکا کرک نے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا مشن جاری رکھیں گی۔
بدھ کو اوورم میں یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں خطاب کے دوران چارلی کرک کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ تحقیقات ابتدا میں بہ ظاہر سست روی کا شکار تھیں، تاہم بعد میں مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
گورنر یوٹاہ اسپنسر کاکس نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کی شناخت 22 سالہ ٹائلر آر کے طور پر کی گئی ہے۔
ایرِکا کرک نے ایک لائیو ویڈیو بیان میں کہا،’’میرے شوہر کے قاتلوں کو اندازہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔ میرے شوہر کی تحریک ختم نہیں ہوگی، میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
چارلی کرک، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور دائیں بازو کے ایک نمایاں رہنما تھے، نوجوان ووٹرز میں بے حد مقبول تھے اور ان کی حمایت نے ٹرمپ کی گزشتہ نومبر کی انتخابی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ٹرمپ نے ان کی موت پر امریکہ بھر میں قومی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ان کے قتل نے گزشتہ 48 گھنٹوں سے امریکی میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر رکھی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں ميں تیزی، مزید 50 فلسطینی ہلاک
حماس کے زیرانتظام غزہ سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق جمعے کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 35 افراد غزہ شہر میں اور 15 دیگر علاقوں میں مارے گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جسے وہ حماس کا آخری گڑھ قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے کئی ارکان نے خبردار کیا ہے کہ غزہ سٹی پر یہ شدید حملے پہلے سے ہی تباہ حال انسانی صورتحال کو مزید بگاڑ دیں گے، جہاں اقوام متحدہ پہلے ہی قحط کا اعلان کر چکی ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں فوری طور پر اس فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس سے شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور بنیادی ڈھانچا تباہ ہو رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سٹی میں ’’دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر اور بلند عمارتوں‘‘ پر وسیع حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
یمن سے داغا گیا میزائل فضا میں تباہ کر دیا، اسرائیل
اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق جمعے کی رات یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ تاہم اس میزائل کی وجہ سے اسرائیل کے کئی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے اور تل ابیب سمیت متعدد شہروں کے رہائشی محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
بعد ازاں ایران نواز حوثی فورسز نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی حمایت یافتہ حوثی بارہا اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں، جنہیں وہ حماس سے اظہارِ یکجہتی قرار دیتے ہیں۔
یہ حملے اکثر تل ابیب کے قریب بن گوریان ایئرپورٹ اور جنوبیاسرائیل کے رمن ایئرپورٹ کو ہدف بناتے رہے ہیں۔ جب کہ جواب میں اسرائیل تواتر سے یمن میں فضائی حملے کرتا رہا ہے۔
بدھ کو یمن میں ہونے والے تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 35 ہلاکتوں کی خبریں ہیں۔ اس سے قبل اگست کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں حوثی وزیرِاعظم سمیت کئی وزرا مارے گئے تھے۔
نیپال میں کشیدگی کے بعد معمولاتِ زندگی بحال
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرپشن مخالف احتجاج کے بعد ہفتے کو زندگی معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے، جہاں کرفیو میں نرمی اور عبوری وزیرِاعظم سشلا کرکی کے حلف کے بعد بازار کھل گئے ہیں اور ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔
بدھ کو پرتشدد حکومت مخالف احتجاج کے دوران پارلیمان کی عمارت کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا اور حکومت گر گئی تھی۔ ان مظاہروں میں کم از کم 51 افراد ہلاک ہوئے۔ دو ہزار آٹھ میں نیپال میں طویل خانہ جنگی اور بادشاہت کے خاتمے کے بعد یہ سب سے خون ریز بدامنی تھی۔
73 سالہ سابق چیف جسٹس سشلا کرکی کو جمعے کی شام عبوری وزیرِاعظم مقرر کیا گیا، جنہیں نظم و نسق بحال کرنے اور کرپشن ختم کرنے کے مطالبات پورے کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ملکی پارلیمان کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ نیپال میں عام انتخابات پانچ مارچ کو منعقد کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سشلا کرکی کو نیک تمناؤں کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نیپال کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔