عورت پر بلاجواز تبصرہ کرنے سے گریز کریں! | دستک | DW | 02.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

عورت پر بلاجواز تبصرہ کرنے سے گریز کریں!

آج تیسرا دن ہے اور اس کشمکش میں ہوں کے وہ مناسب الفاظ کہاں سے لاؤں جو اس تکلیف کو بیان کر سکیں۔ وہ اذیت، جو ایک ملازمت کرنے والی عورت ہونے کے ناتے آپ کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔ مختلف جملے، رویے، لہجے اور باتیں۔

معاشرے کا یہ رویہ عملی زندگی میں قدم رکھنے والی ہر عورت کے لیے ہوتا ہے، ملازمت کی درجہ بندی کیے بغیر، متواتر اور مسلسل تنقید اور طنزآمیز فقرے، جو کبھی مجبوری اور کبھی مصلحت کے تحت مسکرا کر جھیلنے پڑتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو عادت پڑ جاتی ہے اگر کسی شدید نوعیت کا کوئی واقع نہ پیش آجائے جس کی وجہ سے آپ بے پناہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائیں۔

قصہ مختصر، تین دن پہلے میرا اندرون سندھ جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کہانی کی کھوج کرنی تھی۔ وہاں بھی لوگوں کے لیے یہ اچھنبے سے کم نہ تھا کہ ایک لڑکی اتنا دور کام کے سلسلسے میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ آئی ہے۔ میرے شریکِ کار کی صنف مرد تھی  اور اس طرح میں وہاں واحد لڑکی تھی۔ لوگوں نے بڑے معصومانہ سوال کیے، جن کی مجھے دو سالہ کام کے تجربے میں عادت ہو گئی ہے۔ لیکن بات صرف سوالوں کی حد تک نہ رکی۔ وہاں موجود  کچھ لوگوں نے تو چند ایک تصاویر بھی ثبوت کے طور پر لے لیں کہ ان کے لیے تو میں شاید ایک دیومالائی کہانی کا کردار تھی۔

اگلی صبح کا سورج اپنے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک خبر لایا، جس نے میری ذات کا اعتماد ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میری وہی تصاویر، جو کسی نے شرارتاﹰ اپنی پروفائل پر لگا کر لکھا تھا اس میڈم کا 'تعلق‘ فلاں عہدے دار سے ہے اور اس لئے یہ سرِعام ان علاقوں میں دندناتی پھر رہی ہے۔ یہاں لفظ تعلق بہت ذومعنی طور پر استعمال ہوا تھا اور اس بات کا بوجھ اتنا تھا کہ میں اب تک اپنی ذہنی صحت مکمل طور پر بحال کرنے میں ناکام ہوں۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی صحافی لڑکی کو ایسے حالات کا سامنا ہو، نہ ہی میں پہلی صحافی ہوں، جس نے تنقید سہی ہو۔ ہم آئے دن، تم سے نہیں ہو گا، تم ایسا کرو فیشن کی بیٹ پر کام کرو۔ لڑکیاں کرائم رپورٹر نہیں بن سکتیں، جیسے جملے سنتے ہی رہتے ہیں۔ میں اس سے پہلے بھی ایسے حالات کا سامنا کر چکی ہوں اور صرف یہاں نہیں بلکہ ہر شعبے میں عموماﹰ اجتماعی رائے یہ ہی ہوتی ہے کہ ایک عورت بہتر طور پرکام نہیں کر سکتی۔

جلتی نگاہیں، چبھتے فقرے اور طنزیہ لہجوں کا سامنا ہر اس عورت کو کرنا پڑتا ہے، جو گھر کی دہلیز ملازمت کرنے کی غرض سے پار کرتی ہے۔ اور اس سب میں جنسی ہراسگی کا تو قصہ ہی اتنا طویل ہے کہ اللہ کی پناہ۔ آپ کے کردار پر سوال اٹھانا یہ معاشرہ اپنا موروثی حق سمجھتا ہے، ایسا آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور تقریباﹰ روز ہوتا ہے۔ جب ایک عورت کو کام کے بعد اپنی ذہنی حالت کو بھی توجہ دینی ہوتی ہے، جو معاشرے کے مکروہ اور ناقابلِ برداشت نقطہ نظر کی وجہ سے تحس نحس ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا ایک اور واقع جو آج بھی مجھے بھلائے نہیں بھولتا۔

یہ بھی پڑھیے:

اسرائیل فلسطینی علاقے ہڑپ کر لے تو کیا فرق پڑے گا؟

سخت سردی کے دن تھے، جب مجھے ایک غیر ملکی ادارے کی طرف سے ایک ڈاکیومینٹری کی عکس بندی کا حصہ بننے کی آفر آئی تھی۔ کام بلوچستان میں کرنا تھا اور اپنے علاقے میں کام کرنا بھلا کس کو برا لگتا ہے۔  سو میں نے بھی سامان سفر باندھ لیا۔ چمن کے بارڈر اور گرد و نواح میں شوٹ کے لیے نکل پڑے۔ چمن کے مضافات میں ایک چھوٹے سے قصبے کی صبح شاید یونہی ہوتی ہو گی۔ باورچی خانے کی چمنی سے ہلکا ہلکا دھواں نکل کر ہوا میں معلق ہو رہا تھا۔ سامنے زمین سے قدرے اونچے ورانڈے میں گاؤ تکیے لگائے مرد حضرات ناشتہ کرنے میں مشغول تھے۔

جب ہم گھر کے احاطے میں داخل ہوئے تو خان صاحب کا ہاتھ رکا، جس میں ان کا وہ نوالہ تھا، جو وہ عنقریب منہ میں رکھنے والے تھے۔ اور ان کی قدرے چھوٹی بھوری آنکھیں پھیل کر بڑی ہو گئیں۔ خیر میں بڑی بے نیازی سے ان کو سلام ٹھوک کر وہاں موجود واحد صوفے پر جا کر براجمان ہو گئی۔ میرے ٹیم میں موجود باقی چار مرد حضرات  وہیں بیٹھ کر خان صاحب کو ہمارے آنے کا مقصد بیان کرنے لگے۔ خان صاحب اور باقی موجود افراد کے کان ہماری ٹیم کی جانب سے سنائے جانے والی روداد پر تھے اور آنکھیں میری طرف۔ میں نے کمال بے رخی سے ان نگاہوں کو نظر انداز کیا ہوا تھا، جب تک میزبان کا وہ جملہ میرے کانوں میں نہیں پڑا۔ یہ لڑکی ان چار مردوں کے ساتھ کس مقصد سے گھوم رہی ہے؟

 یا الہی جملہ تھا یا بم جو آگ کی ماند میرے کانوں میں پڑا اور میری  سماعت سے ہوتا ہوا وہ میرے قلب تک جا پہنچا اور میں جو خود کو انتہائی تیس مار خان سمجھتی ہوں ایک لمحے کے لیے جھنپ سی گئی۔ جملہ پشتو میں بولا گیا تھا لیکن میزبان کو اندازہ نہیں تھا کہ میرے بچپن کا کچھ حصہ کوئٹہ کی گلیوں میں بھی گزرا ہے۔ جیسا دیس ویسا بھیس کی بنیاد پر جو چادر میں نے اوڑھی ہوئی تھی اس کو میں نے مزید پھیلا لیا اور چمنی سے اٹھتا وہ دھواں تا دیر میری آنکھوں کے سامنے منظر پر چھایا رہا۔

 یاخدا یہ مخلوق جانتی بھی ہے کہ ان کے کہے الفاظ نشتر کی طرح کسی کی روح کو زخمی کر دیتے ہوں گے؟ کیا کبھی کسی نے اس بابت غور کیا ہے کہ آپ کی ایک بات کسی کی زندگی پر کتنا گہرا اثر ڈال سکتی ہے؟  لیکن ہماری عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ انہیں تو بس سوال اٹھانے آتے ہیں اور ایسے بیش بہا سوالات کا سامنا ہر کام کرنے والی عورت نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کیا ہے۔ جگہ، مذہب، مسلک، فرقہ کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر ایک کا عمل اس کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور یہاں کام کرنے والی مستورات کے ساتھ کم و بیش ہر دن ہر سطح پر یہی مسائل درپیش ہیں۔

کچھ اچھا کر لیں تو آپ کے تعلقات قائم کروا دیے جاتے ہیں، جن کی آپ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ کچھ سیکھنے جاؤ تو سننے میں آتا ہے کہ یہ اکیلی لڑکی ان مردوں کی ٹیم میں کیسے کام کر رہی ہے؟ اب انہیں کون سمجھائے کہ ان کو جنم دینے والی بھی ایک عورت تھی اور اس سے بڑا کام اللہ رب العزت نے کوئی رکھا ہی نہیں۔

آخر میں مان لیتے ہیں کے تمام مرد حضرات ایسے نہیں ہوتے۔ لیکن میرا ملک کے تمام صوبوں میں کام کا تجربہ کہتا ہے کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے، تو وہ دو نمبر اور حرافہ جیسے القابات سے نوازی جاتی ہے۔ چند معدومیت کے خطرے سے دوچار عزت دینے والے مرد مل جاتے ہیں لیکن آہ افسوس اس بے حس معاشرے میں یہ صفت بھی کس قدر کمیاب ہے اور اب تو ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

DW.COM