عمران خان کا دونوں نابالغ ہندو بہنوں کی بازیابی کا حکم | حالات حاضرہ | DW | 24.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عمران خان کا دونوں نابالغ ہندو بہنوں کی بازیابی کا حکم

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو حال ہی میں ’اغوا کی گئی‘ دو نابالغ ہندو لڑکیوں کی برآمدگی کا حکم دیا ہے۔ ان دونوں بہنوں کی مبینہ طور پر زبردستی قبول اسلام کے بعد شادی کی بھی جا چکی ہے۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اتوار چوبیس مارچ کو کراچی اور لاہور میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو حکم دیا کہ یہ دونوں کم عمر پاکستانی ہندو لڑکیاں جلد از جلد برآمد کی جائیں۔ ملکی میڈیا کے مطابق ان دونوں ٹین ایجر ہندو بہنوں کوصوبہ سندھ میں گھوٹکی سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا اور پھر مبینہ طور پر جبری تبدیلی مذہب کے بعد ان کی شادیاں دو پاکستانی مسلمانوں سے کر دی گئیں۔

یہ رپورٹیں بھی ہیں کہ پاکستان میں ہندو مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی ان دونوں کم عمر بہنوں کو اب تک رحیم یار خان لے جایا جا چکا ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کے علاوہ پنجاب کی صوبائی حکومت کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ ان دونوں ’مغوی‘ لڑکیوں کو جلد از جد بازیاب کرایا جائے۔

لڑکیوں کے والد کا احتجاج

پاکستان میں گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں ان دونوں بچیوں کے والد کو سندھ کے ایک نیم دیہی علاقے میں ایک تھانے کے احاطے میں زمین پر بیٹھے ہوئے اپنا سر پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ پاکستانی شہری مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کی دونوں ’اغوا شدہ‘ بیٹیاں بازیاب کرائی جائیں۔

لیکن ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ایسی دوسری ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں اسی پاکستانی ہندو کی دونوں بیٹیوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔

’دونوں لڑکیاں اب رحیم یار خان میں‘

پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو یہ واضح حکم دے دیا ہے کہ وہ اس امر کی چھان بین کریں کہ گھوٹکی سے ان دونوں نابالغ ہندو بہنوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور انہیں اب تک رحیم یار خان پہنچایا جا چکا ہے۔

اندازوں کے مطابق ان دونوں لڑکیوں کو سندھ سے پنجاب میں رحیم یار خان اس لیے پہنچایا گیا کہ یوں سندھ پولیس کی کارروائی سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی عمران خان نے حکام کو یہ حکم بھی دیا کہ اگر یہ دونوں لڑکیاں واقعی رحیم یار خان پہنچائی جا چکی ہیں، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انہیں فوری طور پر برآمد کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ عمران خان نے سندھ میں صوبائی حکومت کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ صوبے میں ہندو مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے اغوا اور ان کے مبینہ طور پر تبدیلی مذہب پر مجبور کیے جانے کے واقعات کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔

بھارتی وزیر خارجہ کی تشویش

گھوٹکی سے ان دونوں ہندو لڑکیوں کے ’اغوا‘ اور مبینہ طور پر تبدیلی مذہب کے بعد ان کی مسلمانوں سے شادی سے متعلقہ رپورٹوں پر بھارت سے بھی رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ انہوں نے پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر سے اس بارے میں ایک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Indien - Außenministerin Sushma Swaraj und der pakistanische Innenminister Fawad Chaudhry

پاکستانی وزیر داخلہ، دائیں، اور بھارتی وزیر خارجہ

چند ماہرین کے مطابق بھارت میں اس موضوع کو بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پسند حکومت اس لیے بھی سیاسی طور پر کچھ اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بھارت میں عنقریب ہی قومی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

فواد چوہدری کا سشما سوراج کو جواب

بھارتی وزیر برائے امور خارجہ سشما سوراج کی آج کی ٹویٹ کے بعد پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر ہی اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ سندھ سے ان دونوں پاکستانی ہندو لڑکیوں کا معاملہ پاکستان کا ایک داخلی معاملہ ہے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی لکھا کہ اول تو یہ پاکستان کا ایک داخلی معاملہ ہے اور دوسرے یہ کہ اپنی یہی توجہ بھارت کو دراصل اپنے ہاں اقلیتوں کے حقوق کے احترام پر دینا چاہیے۔

پاکستانی وزیر اطلاعات کے بقول ان دونوں ہندو بہنوں کے مبینہ اغوا کے بارے میں اسلام آباد میں انسانی حقوق کی وزارت کو ایک جامع انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔ ان دونوں لڑکیوں کی عمریں 14 اور 16 برس ہیں اور پاکستان میں سوشل میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک درگاہ پر اسلام قبول کیا۔

پاکستان میں گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ہی ایک ایسی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں رینا اور روینا نامی ان دونوں ہندو بہنوں کو قبول اسلام اور نکاح کے بعد نکاح خواں اور دونوں دلہوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

م م / ا ا

DW.COM