عبداللہ عبداللہ کا دورہ، امن کے لیے کھلتی ہوئی راہیں | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عبداللہ عبداللہ کا دورہ، امن کے لیے کھلتی ہوئی راہیں

افغان اعلی سطحی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے دورہ پاکستان کو ملک کے دفاعی مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگار بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ اس سے افغانستان میں امن کی راہیں بھی کھلیں گی اور غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ آج تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے جب کہ وہ صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت پاکستان کے کئی رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ افغان رہنما ایک تھنک ٹینک کی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔

دورہ کی اہمیت

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کار امن کوششوں میں مصروف ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی فوج انتخابات سے پہلے واپس بلانے کی جلدی ہے۔ دوحہ میں کی جانے والی ان کوششوں میں اسلام آباد کا کردار بہت اہم ہے، جس نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

 وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک مضمون میں، جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا، اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغان امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور یہ کہ فریقین کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور صبر و استقامت سے ان مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان میں ماضی میں کئی تلخیاں رہی ہیں۔ اسلام آباد کے تعلقات شمالی اتحاد اور عبداللہ عبداللہ سے خوشگوار نہیں رہے۔ انہیں پاکستان میں ایک بھارت نواز افغان رہنما سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے اس دورے سے اب پاکستان میں کئی لوگ امیدیں لگا رہے ہیں کہ جنگ زدہ ملک میں امن کی راہیں کھلیں گی۔

ماضی کی تلخیاں

واضح رہے کہ عبداللہ عبداللہ کو پاکستان مخالف سیاست دان سمجھا جاتا ہے، جو نوے کی دہائی میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد شمالی اتحاد کے ایک اہم رہنما کے طور پر اُبھرے تھے۔ اس اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود تھے اور اس اتحاد کے تقریبا تمام سرکردہ رہنما غیر پشتون تھے، جن کے بھارت، روس اور ایران سے بہتر تعلقات تھے جب کہ ان کے اسلام آباد سے تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔

افغانستان پر امریکی حملےکے بعد شمالی اتحاد کے لوگ اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہوئے، جس سے کابل اور اسلام آباد میں مزید تناؤ پیدا ہوا کیونکہ ان افراد کے نئی دہلی سے قریبی مراسم تھے۔

تلخیاں کم کرنے کا موقع

پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ دورہ 'تاریخی تلخیاں‘ ختم کرنے میں معاون ہو گا۔ ان کے خیال میں ایسی تلخیاں کم ہونے سے افغانستان میں امن کے امکانات روشن ہوں گے۔ معروف دفاعی مبصر جنرل ریٹائرڈ امجد شیعب کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بہت مثبت ہے، "تاریخی طور پر عبداللہ عبداللہ اور شمالی اتحاد کے افراد نئی دہلی کے قریب رہے ہیں اور اسی وجہ سے بھارت سے دو ہزار گیارہ میں کابل کا ایک اسٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدہ ہوا۔ بھارت نے ان کو یقین دلایا تھا کہ طالبان کو جنگ کے ذریعے کچلا جا سکتا ہے۔ کیونکہ امریکا کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے شمالی اتحاد کے لوگوں نے جنگ کے ذریعے طالبان کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کا موقف یہ تھا کہ مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈا جائے اور طالبان کو ایک حقیقت تسلیم کیا جائے۔ آج امریکا بھی طالبان کو ایک حقیقت تسلیم کرتا ہے اور عبداللہ عبداللہ سمیت افغانستان میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز بھی انہیں ایک حقیقت تسلیم کر تے ہیں۔ اسلام آباد طالبان اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پُل کا کام کر سکتا ہے۔ اسی لیے عبداللہ عبداللہ یہاں آئے ہیں، جو ان کے دورے کے مقاصد میں سے ایک ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں بھارت اور اشرف غنی اب بھی رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں، ''لیکن پاکستان دوسرے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے کیونکہ اسلام آباد افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت چاہتا ہے اور یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے۔‘‘

خطے میں بھارت کا محدود کردار

کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال ہے میں یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور خطے، خصوصا افغانستان میں، بھارت کا کردار محدود ہوا ہے۔ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکارے نجم الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کردار کو روس، چین اور امریکا سب مان رہے ہیں، ''یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی فتح ہے کہ آج بھارت نواز افغان رہنما بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ اب نئی دہلی کو وہ کردار افغانستان میں حاصل نہیں ہے، جو اسے امریکی حملے کے بعد ملا تھا۔ اس دورے سے پاکستان دنیا کو یہ دکھا سکتا ہے کہ نہ صرف طالبان بلکہ ماضی میں شمالی اتحاد سے وابستہ رہنے والے افراد بھی اس سے امیدیں باندھ رہے ہیں۔‘‘

نئے سفر کا آغاز

تاہم کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان کو ماضی کو بھلا کر نئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے اور اپنی اپروچ بھی بدلنا چاہیے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان سارے انڈے ایک ٹوکری میں رکھنا نہیں چاہتا، ''ماضی میں پاکستان نے صرف افغان طالبان سے اپنے مراسم رکھے لیکن اب اس دورے سے یہ لگتا ہے کہ اسلام آباد صرف طالبان پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ افغانستان کے دوسرے اسٹیک ہولڈرز سے بھی تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ ممکن ہے کہ طالبان کچھ مسائل پر پاکستان کی نہ سن رہے ہوں، تو اسلام آباد ان کو دکھانا چاہتا ہو کہ جنگ زدہ ملک میں اور بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ تاہم یہ دورہ بہت مثبت ہے اور اس کے خطے پر بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افغانستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے، ''ہمیں یہ سوچ ترک کرنی چاہیے کہ افغانستان ہماری سیٹلائٹ ہے۔ وہ ایک آزاد و خود مختار ملک ہے اور ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس کے ایران، بھارت یا کسی اور ملک سے اچھے تعلقات ہیں یا وہ بھارت سے کوئی معاہدہ کر رہا ہے کیونکہ جتنا ہم ایسے معاہدوں پر پریشان ہوں گے، اتنا ہی ہمیں بلیک میل کیا جائے گا۔ اگر کوئی معاہدہ ہمارے بنیادی مفادات کے خلاف نہیں ہے تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘‘