طورخم سرحد چوتھے روز بھی بند، تجارتی سرگرمیاں معطل | حالات حاضرہ | DW | 20.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طورخم سرحد چوتھے روز بھی بند، تجارتی سرگرمیاں معطل

پاکستان اور افغانستان کے مابین طورخم کی سرحد پیر کو چوتھے روز بھی بند رہی۔ طورخم سرحد کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے اپنا آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ بھاری توپ خانہ بھی وہاں پہنچا دیا گیا ہے۔

سرحد کی بندش اور اس سے متعلقہ اقدامات کے نتیجے میں سرحدی تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہوکر رہ گئی ہیں جبکہ دونوں طرف سے ‌آنے جانے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران پاکستانی فوج کے کور کمان‍ڈر نذیر بٹ نے پاک افغان سرحد پر واقع علاقے لوئے شلمان کا دورہ بھی کیا۔

فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق کور کمانڈر کو سرحد پر تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے فوجی مورچوں پر تعینات جوانوں سے ملاقات کی اور علاقے میں کیے جانے والے آپریشنل اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

پاک افغان سرحد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آج پیر کو چوتھے روز سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی سرگرمیاں بند ہوچکی ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں سامان سے بھرے ٹرک افغانستان جانے کے لیے سرحد پر تیار کھڑے ہیں۔

تاہم طورخم پر پاکستانی کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کھلنے میں ابھی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ طورخم کی سرحد کی بندش کی وجہ سے سرکاری خزانے کو روزانہ دس ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اس سلسلے میں پاک افغان مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین ضیا الحق سرحدی نے کہا، ’’افغانستان کے ساتھ تجارت ڈھائی ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر رہ گئی ہے جبکہ حالیہ بندش سے بھی دوطرفہ تجارت کو یقینی طور پر نقصان پہنچے گا۔‘‘

پاکستانی حکام کے مطابق رواں ماہ کے دوران ہونے والے پے در پے دہشت گردانہ حملوں کے تانے بانے افغانستان میں چھپے مطلوب دہشت گردوں سے ملتے ہیں، جس پر پاکستان نے افغانستان میں موجود 76 دہشت گردوں کی ایک فہرست بھی افغان حکام کے حوالے کی ہے۔ آج پیر کے روز افغان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ دو روز قبل پاکستان کی جانب سے ملنے والی اس فہرست پر افغان حکام غور کر رہے ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل حکومت کو مطلوب پاکستان میں موجود 85 دہشت گردوں اور ان کے 32 ٹھکانوں کی ایک فہرست بھی پاکستانی حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی وجہ سے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جہاں پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے تاجر اور ان سے جڑے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، وہیں پر قبائلی علاقوں بالخصوص خیبر ایجنسی کے عوام بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن اور ان کی جانب سے ممکنہ رد عمل کی وجہ سے طورخم کے آس پاس کے تین دیہات کے مقامی رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

ان دیہات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک سینکڑوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ پیر کے روز بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ جب اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے مقامی تحصیل دار شمس سے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا، ’’تین مختلف دیہات سے 200 کے قریب خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اس میں علاقہ لوئے شلمان،سمئی درہ اور شین پوخ نامی علاقے شامل ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان لوگوں کے لیے کوئی کیمپ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کو کہا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو امدادی سامان کی فراہمی شروع کر دی جائے۔

ادھر طورخم کی پاک افغان سرحد پر افغانستان سامان لے کر جانے والے ٹرک ڈرائیور اور ان کا ساتھی عملہ بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان افراد کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ان کے ٹرکوں پر لدا سدامان خراب ہو جائے گا۔

ایک ٹرک ڈرائیور سلیم خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ زیادہ تر ٹرک اشیائے خورد و نوش سے بھرے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو رہی ہیں اور یوں کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف پولیٹیکل انتظامیہ کاکہنا ہے کہ طور خم کی سرحد بند ہونے کی اطلاعات پہلے سے تھیں، جس کی وجہ سے سرحد پر رکے ہوئے ٹرکوں کی تعداد مقابلتاﹰ کم ہے۔ ’’اس کے باوجود سرحد دوبارہ کھلنے میں ابھی وقت لگے گا۔‘‘

اشتہار