پاکستان کی مسیحی برادری: طلاق کے قانونی مسائل کیا ہیں؟
9 فروری 2026
قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایسے شادی شدہ جوڑوں کے لیے طلاق کا راستہ نسبتاً آسان ضرور بنایا ہے جو اپنی ازدواجی زندگی سے مطمئن نہیں، تاہم اس فیصلے پر پورے ملک میں یکساں عمل نہیں ہوتا۔
کرن کی پانچ سال پر محیط کہانی
دس جنوری 2026 کی ایک سرد صبح راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس معمول سے زیادہ مصروف تھا۔ یہ عدالتی سال کا پہلا دن تھا اور راہداریوں میں وکلا فائلیں سنبھالے اپنی سرگرمیوں میں نہایت مشغول نظر آرہے تھے۔ باہر قطار میں لوگ کھڑے تھے اور اندر ریکارڈ روم کے اہلکار فائلوں کے انبار میں مطلوبہ دستاویزات تلاش کر رہے تھے۔ فضا میں بے صبری اور بے بسی کی وہی کیفیت تھی جو پاکستان کی نچلی عدالتوں کا مستقل منظر بن چکی ہے۔
اسی ہجوم میں راولپنڈی کی رہائشی کرن مسیح (فرضی نام) اپنے والد کے ساتھ ایک عدالت کے باہر خاموشی سے بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں موجود فائل محض ایک قانونی درخواست نہیں تھی بلکہ پانچ برسوں پر محیط گھریلو تشدد، سماجی دباؤ، مذہبی پیچیدگیوں اور عدالتی مشکلات کی ایک مکمل داستان تھی۔
کرن بتاتی ہیں کہ روزمرہ کی گالم گلوچ، شوہر کی بے وفائی اور مسیحی مذہبی قانون میں براہِ راست طلاق کے تصور کی عدم موجودگی نے انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کیا۔ وہ اس امید کے ساتھ یہاں آئی تھیں کہ شاید تین ماہ میں فیصلہ ہو جائے گا اور ان کی زندگی کسی نئی سمت میں آگے بڑھ سکے گی۔
طلاق کے قانونی راستے کیوں مشکل ہیں؟
ماہرین کے مطابق مسیحی کمیونٹی میں طلاق کا کوئی سادہ یا براہِ راست طریقہ کار موجود نہیں۔ یا تو معاملہ عدالت میں جاتا ہے یا اس کے لیے چرچ کی مخصوص انکوائری کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
سماجی حقوق کی کارکن رومانہ بشیر کے مطابق 1869 کا کرسچن ڈائیورس ایکٹ، جو لاہور ہائی کورٹ کے امین مسیح کیس کے بعد دوبارہ نافذ ہوا، طلاق کے قانونی گراؤنڈز واضح کرتا ہے۔ ان میں دھوکہ، پہلے سے شادی شدہ شخص سے نکاح، زنا اور غیر اخلاقی تعلقات شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون مذہبی عقیدے کی بجائے اخلاقی اور سماجی اصولوں پر مبنی ہے۔
رومانہ بشیر کہتی ہیں کہ اگرچہ یہ گراؤنڈز طلاق کے لیے ایک قانونی راستہ فراہم کرتے ہیں، مگر مذہبی حساسیت، تجربہ کار وکلا کی کمی اور سماجی دباؤ کے باعث یہ راستہ عملی طور پر آسان نہیں رہتا۔ بعض وکلا شارٹ کٹ مشورے دیتے ہیں، جیسے مذہب کی تبدیلی یا غیر رسمی طریقوں سے طلاق، جو بعد میں مزید قانونی اور سماجی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
فیصلہ ممکن، مگر گفتگو مشکل
کرن مسیح اُن تقریباً چھپن خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے نئے سال کے آغاز پر انصاف کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کیا۔ ان کے مقدمات اس وقت مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2025 کی آخری سہ ماہی میں چالیس سالہ بینش مسیح اور بتیس سالہ سارہ مسیح نے تنسیخِ نکاح کے سرٹیفکیٹس حاصل کیے، اور ان دونوں مقدمات کے فیصلے تین سے چار ماہ کے اندر سنائے گئے۔
تاہم جب ان خواتین سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے وکیلوں نے مؤقف اپنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر عوامی گفتگو خطرناک ہو سکتی ہے۔
ممتاز قانون دانایڈوکیٹ سعید محمود کے مطابق، خاتون مسلم ہو یا مسیحی، انصاف کے اصول سب کے لیے یکساں ہیں۔ اگر کسی جج کو اعتراض بھی ہو تو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس سے عدالتی کارروائی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔
فائلوں کے انبار اور ڈیٹا کا فقدان
عدالتی حکام کے مطابق مسیحی خواتین کے طلاق سے متعلق مقدمات کا کوئی جامع کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا موجود نہیں۔ ریکارڈ روم میں موجود ہزاروں فائلوں سے درست اعداد و شمار حاصل کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔
ریکارڈ پر مامور اہلکار ہارون کے مطابقمسیحی مرد اور خواتین معمول کے مطابق انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ دوسری جانب سینٹ جوزف کیتھولک کیتھیڈرل، راولپنڈی کے مطابق اختلافات کا شکار جوڑے چرچ سے بھی رجوع کرتے ہیں، مگر گزشتہ تقریباً دس برسوں میں کوئی کیس نکاح کی تنسیخ پر ختم نہیں ہوا۔ تمام معاملات صلح کے ذریعے طے کیے گئے۔
فادر عامر یعقوب کے مطابق کیتھولک چرچ میں طلاق کا تصور ہی موجود نہیں اور چرچ کے ریکارڈ میں اس کا کوئی آپشن شامل نہیں۔
دیرینہ مسئلہ
انسانی حقوق کے کارکن ولیم پرویز اپنی بہن کی طلاق کی مثال دیتے ہیں، جو 1997 میں عدالت کے ذریعے عمل میں آئی۔ ان کے مطابق ان کی بہن نے شادی کے ابتدائی چار برس والدین کے گھر گزارے، بچوں کی پرورش کی، جبکہ شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ تھے اور نہ ہی ان کی ازدواجی زندگی کے مسائل قابلِ برداشت تھے۔ دو سے تین سال کی عدالتی کارروائی کے بعد طلاق کا فیصلہ سنایا گیا۔
ولیم پرویز کے مطابق اس وقت قانونی فریم ورک اور مذہبی تشریحات واضح نہیں تھیں، اور بدقسمتی سے آج بھی بہت سے معاملات میں صورتحال مختلف نہیں۔
ضیاء دور کی قانون سازی اور اس کے اثرات
سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں شادی اور خاندانی قوانین اسلامائزیشن پالیسیوں سے متاثر ہوئے۔ 1981 میں کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 میں ترمیم کر کے سیکشن 7 کو ہذف کر دیا گیا تھا، جس کے بعد مسیحی مردوں کے لیے طلاق کا واحد قانونی جواز اپنی بیوی پر زنا کا الزام عائد کرنا ہی رہ گیا۔
یہ صورتحال جون 2017 تک برقرار رہی۔ تب لاہور ہائی کورٹ نے کرسچن ڈائیورس ایکٹ 1869 کے سیکشن 7 کو بحال کرتے ہوئے مسیحی مردوں کو بغیر زنا کا الزام لگائے باعزت طریقے سے اپنی بیوی کو طلاق کا حق دیا گیا۔
سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق یہ فیصلہ انسانی بنیادوں پر ایک اہم پیش رفت تھا، مگر اس کا اطلاق صرف لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار تک محدود ہے۔ دیگر علاقوں میں اسے محض ایک قائل نظیر سمجھا جاتا ہے۔
ایک سنجیدہ سوال
پاکستان میں مسیحی طلاق کا مسئلہ محض چند عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاست کے پرسنل لا کے نظام میں موجود ایک بنیادی خلا کو نمایاں کرتا ہے۔ جب تک مسیحی برادری کے لیے ایک واضح، جدید اور ملک بھر میں یکساں نافذ ہونے والا خاندانی قانون تشکیل نہیں دیا جاتا، عدالتیں وقتی سہارا تو فراہم کرتی رہیں گی مگر مستقل اور یقینی انصاف ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اس خلا میں مسیحی خواتین اور مردوں کی ازدواجی زندگی کے فیصلے قانون کی بجائے عدالتی تشریح اور سماجی دباؤ کے تابع رہیں گے۔ یہ کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔
اس مسئلے پر حکومتی موقف جاننے کے لیے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے کئی بار براہِ راست اور وزارت کے عوامی رابطہ افسر کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔
ادارت: کشور مصطفیٰ