طالبان عارضی فائر بندی پر تیار | حالات حاضرہ | DW | 16.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان عارضی فائر بندی پر تیار

افغان طالبان عارضی فائربندی پر تیار ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزیرخارجہ نے بھی کہا ہے کہ طالبان نے ایک اہم مطالبہ مانتے ہوئے اپنی پرتشدد کارروائیوں میں کمی لانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی نے افغان امن مذاکراتی عمل سے باخبر ایک شخصیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ طالبان نے عارضی فائربندی سے متعلق ایک دستاویز امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد کے حوالے کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ عارضی فائربندی سات سے دس روز تک کی ہو گی۔

افغان طالبان کی اس پیش کش کو کسی ممکنہ افغان امن معاہدے اور اٹھارہ سالہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایک نیا موقع تصور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی سے متعلق دستاویز بدھ کی شام قطر میں امریکی مذاکرات کار کے حوالے کی گئی۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ افغان طالبان پرتشدد کارروائیوں میں کمی لانے پر تیار ہو گئے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر ایسی چہ مگوئیوں میں اضافہ ہو گیا ہے کہ طالبان امریکا مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہنا تھا، ''آج ایک مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ طالبان نے تشدد میں کمی لانے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور یہی مطالبہ بھی تھا۔ یہ امن معاہدے کی جانب ایک قدم ہے۔‘‘

پاکستانی وزیر خارجہ نے اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس تبصرے پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ برس ستمبر میں افغان طالبان اور امریکا ایک امن معاہدے کے بہت ہی قریب پہنچ چکے تھے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکی صدر نے یہ اعلان طالبان کی جانب سے کیے جانے والے پے در پے بڑے حملوں کے بعد کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے سب سے اہم نکات دو ہوں گے۔ ایک امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلاء اور دوسرا یہ کہ طالبان افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ اٹھارہ برس پہلے امریکا نے القاعدہ کے ٹھکانوں کو بنیاد بناتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

ا ا / ع ا ( اے ایف پی، اے پی)