’طالبان سے بات کیسے کی جائے‘، عالمی برادری کے لیے معمہ بن گیا | حالات حاضرہ | DW | 27.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’طالبان سے بات کیسے کی جائے‘، عالمی برادری کے لیے معمہ بن گیا

مبصرین اس پر منقسم ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ جبکہ قطر اور پاکستان عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ طالبان سے مکالمت لازمی ہے۔

قریب ایک ماہ قبل افغان طالبان کلیشنکوفیں لیے کابل پر چڑھ دوڑے تھے۔ اب یہی طالبان بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔ طالبان نے ان دنوں نیو یارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور بین الاقوامی برادری کے سامنے تقریر کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں اشارہ دیا گیا کہ فوری طور پر یہ ممکن نہیں۔

طالبان کا سخت ترین سزاؤں کے نفاذ کا اعلان

امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت کیوں؟

افغانستان کے لیے ایمرجنسی فنڈز جاری کر دیے، اقوام متحدہ

افغانستان سن 1946 میں اقوام متحدہ کا رکن بنا تھا۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پیر ستائیس ستمبر کو افغان نمائندے کا خطاب متوقع ہے مگر یہ خطاب اشرف غنی کی حکومت کے نامزد کردہ نمائندے کر رہے ہیں۔ کسی ملک کی نمائندگی کے لیے خطاب کرنے والے اور سفیر کا فیصلہ اس عالمی تنظیم کی ایک کمیٹی کرتی ہے، جس نے فی الحال طالبان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

کینیڈا کے سینٹر فار انٹرنیشنل گوورنینس انوویشن کے صدر روہنٹن میدھورا کے مطابق افغانستان کی مثال یہ سمجھنے کے لیے بہت اچھی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کا قیام عمل میں کیوں آیا۔ "اگر آپ اقوام متحدہ ہیں اور آپ نے اپنے پورے کنبے کی نمائندگی کرنی ہے، تو آپ چاہیں گے کہ کنبے کا ہر شخص وہاں موجود ہو، وہ دور دراز کا کزن بھی جس پر کسی کو فخر نہیں۔" میدھورا کے مطابق اقوام متحدہ کو اپنی اقدار دکھانے کے لیے افغانستان کی ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ افغانستان میں اپنی پوزیشن استعمال کر سکتی ہے۔ اس عالمی تنظیم کی امداد و ترقیاتی پروگراموں کی افغانستان اور اسے چلانے والوں کو اشد ضرورت ہے۔ اس وقت افغانستان کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے سنگین معاشی بحران ہے۔

دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایک سفیر ناصر اندیشہ کے مطابق طالبان تمام افغان شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں تسلیم کیے جانے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ہتھیار اٹھانا اور تشدد پر اتر آنا درست ہے۔

طالبان کی جانب اقوام متحدہ کے لیے نامزد کردہ نمائندے سہیل شاہین کا موقف ہے کہ ملک کے تمام بڑے شہر، سرحدیں اور دیہی علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں اور یہ بات انہیں عوام کا نمائندہ بناتی ہے۔ شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان کو عوام کی حمایت حاصل اور اسی وجہ سے وہ جنگ جیتے۔

بین الاقوامی سطح پر قطر اور پاکستان عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ طالبان کو تنہا نہ کیا جائے۔ ان ملکوں کا کہنا ہے کہ طالبان پر انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کے احترام کے لیے زور ڈالنے کے لیے ان سے مکالمت لازمی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:23

طالبان کا معاشی بحران زدہ ’پر امن‘ افغانستان

ع س / ع ح (نیوز ایجنسیاں)