طالبان حکومت کے ایک سو ایام، کئی چیلنجز اور بے شمار مسائل | معاشرہ | DW | 25.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

طالبان حکومت کے ایک سو ایام، کئی چیلنجز اور بے شمار مسائل

افغانستان پر اس وقت حکومت قائم کرنے والے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سو دن رواں ہفتے مکمل ہو گئے ہیں۔ طالبان اقتدار میں اس وقت آئے تھے جب اگست میں امریکی اور نیٹو کی افواج نے افغانستان سے فوجی انخلا مکمل کیا تھا۔

 طالبان قیادت کو بھی ایک سو دن کے مکمل ہونے کا احساس ہے اور کئی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر طالبان کے کارکنوں نے امریکی ساختہ بکتر بند گاڑیوں کو اپنی پریڈ میں شامل کیا۔

امریکی فوجی کئی افغان شہروں میں ٹینکوں اور بکتربند گاڑٰوں کو بہتر حالت میں چھوڑ گئے تھے۔ ایک سو دن ضرور مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے اور عالمی سطح پر  ان کی تنہائی ابھی بھی ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔

افغانستان کے لیے بھارتی امداد: پاکستان سے گزرنے کی اجازت

طالبان کو درپیش داخلی مسائل

افغانستان کے اندر مالی مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ شہروں اور دیہات میں خوراک کی انتہائی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ غربت کی سطح انتہائی زیادہ ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے دیہات کے لوگوں کی داخلی ہجرت جاری و ساری ہے۔ اس ملک کو  کووڈ انیس کی افزائش کا بھی سامنا ہے۔ غربت سے تنگ افراد اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

Bildergalerie Afghanistan

کھانے کے حصول میں افغان شہری

 اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے عالمی برادری کی توجہ افغانستان میں جنم لینے والے انسانی المیے کی جانب کئی مرتبہ مبذول کرانے کی کوششیں کی ہیں۔

امدادی دینے والوں کا مذاکراتی سلسلے

کابل پر حکومت رکھنے والے طالبان کو شدید و سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کے بینک بند ہیں۔ بینکوں کی اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی نہیں ہے۔  لوگوں کو تنخواہیں دینا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ جہاں تنخواہیں دینا ممکن ہے وہاں بھی بھوک اور افلاس کی آفت کو دور رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

امریکا طالبان سے اگلے ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا

اس وقت بھی بڑے امدادی ادارے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں جرمنی کے خصوصی مندوب برائے افغانستان یاسپر ویک بھی کابل گئے ہوئے تھے۔ طالبان نے انہیں بھی آزادنہ طور پر امداد تقسیم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اب موم سرما بتدریج شدید ہو رہا ہے اور وہاں لوگوں کو اپنے آپ کو محفوظ رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک بنیادی مسئلہ

 افغانستان کا سب بڑا مسئلہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی شناخت حاصل نہ ہونا ہے۔ اس باعث ملک کے اندر بینکوں کا نظام معطل ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ افغانستان کا بینکنگ نظام، عملی طور پر منہدم ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے سارے ملک کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے، جو سنگین معاشرتی عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔

Afghanistan Kunar Coronavirus Lockdown

خوراک کی قلت کی وجہ سے افغان شہری مختلف مقامات پر کھانا حاصل کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں

سارے ملک میں مالیات کا کوئی نظام  فعال نہیں۔ ابھی بھی بین الاقوامی برادری طالبان کو ایک خطرناک دہشت پسند گروپ کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی برادری طالبان حکومت کے خواتین کے ساتھ سلوک اور شخصی آزادی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ اور دوسرے انٹرنیشنل ادارے بھی ہاتھ آگے بڑھانے سے گھبرا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ڈیبرا لیونز کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت انسانی تباہی کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔

طالبان کے نئے مذہبی ضوابط، خواتین فنکاروں کو ٹی وی پر نہ دکھانے کی ہدایات

چینی و پاکستانی امداد اور مغرب

ابھی تک طالبان کے بڑے حامیوں چین اور پاکستان نے بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان کی جانب سے امداد کی فراہمی ضرور سامنے آئی ہے۔ ابھی ایک روز قبل پاکستان نے اپنی سرزمین سے بھارت کو افغانستان امداد پہنچانے کی اجازت دی ہے۔ حالیہ ایام میں چین بھی ایک ہزار ٹن خوراک ٹرکوں کے ذریعے روانہ کر چکا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کابل کو قریب پانچ ارب روپے کی امداد فراہم کرے گا، اس کے علاوہ طبی امداد، خوراک وغیرہ بھی پاکستان کی جانب سے افغانستان پہنچائی جائے گی۔

Afghanistan Bettelnde Frau mit Kind Jalalabad

شدید غربت کی وجہ سے ایک افغان عورت راستے پر بیٹھ کر بھیک مانگ رہی ہے

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ قطر میں اگلے ہفتے طالبان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہو گی۔ دو ہفتے تک چلنے والے مجوزہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کریں گے۔

نقد رقم اس وقت افغانستان کی سب سے بڑی ضرورت، ریڈ کراس

ٹام ویسٹ نے دو ہفتے قبل ہی طالبان کے نمائندوں سے پاکستان میں ملاقات کی تھی۔ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 9 اور 10 اکتوبر کو ہوا تھا۔ 

ع ح/ ع ا (روئٹرز، ڈی پی اے۔ اے پی)