′طاقت ور حلقے لوگوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے سے پہلے سوچیں گے‘ | معاشرہ | DW | 18.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

'طاقت ور حلقے لوگوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے سے پہلے سوچیں گے‘

نئی دہلی کی ایک عدالت نے بھارتی خاتون صحافی پریا رمانی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں انہیں بےقصور قرار دے دیا ہے۔ پریا رمانی نے سابق وزیر ایم جے اکبر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

2018ء میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف بین الاقوامی مہم کے دوران بھارتی صحافی پریا رمانی نے ملک کے ایک سابق وزیر ایم جے اکبر کے خلاف اسی نوعیت کا الزام عائد کیا تھا۔ اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے  ایم جے اکبر نے رمانی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا تھا۔

پریا رمانی پہلی خاتون تھیں، جنہوں نے سابق وزیر اور بھارت کے انتہائی بااثر سمجھے جانے والے ایڈیٹر ایم جے اکبر کے خلاف جنسی ہراسیت کا الزام عائد کیا تھا۔ پریا رمانی کے اس اقدام کے بعد بیس دیگر خواتین بھی اس طاقت ور شخصیت کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات کے ساتھ سامنے آ گئی تھیں۔ رمانی اور دیگر خواتین کی طرف سے ان الزمات کے بعد ایم جے اکبر نے 2018ء میں امور خارجہ کے جونیئر وزیر کے عہدے سے استفعیٰ دے دیا تھا۔

بدھ کے روز سنائے گئے عدالتی فیصلے کے بعد پریا رمانی سے متعلق اس مقدمے کے نتیجے کو بھارت میں 'می ٹو‘ تحریک کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا، ''معاشرے میں اہم عہدہ اور رتبہ رکھنے والا کوئی شخص بھی جنسی ہراسیت کا مرتکب ہو سکتا ہے اور کسی کی ساکھ کی خاطرکسی کے وقار کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔‘‘

پریا نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا،" میری کامیابی اور خواتین کو بھی حوصلہ دے گی۔ یہ طاقت ور مردوں کو لوگوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرے گی۔"

پریا رمانی کی قریبی دوست نمیتا بھنڈارے نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا، ''وہ کھل کر بولی، وہ عدالت میں کھڑی ہو کر سوالات کے جواب دینے سے خوف زدہ نہیں ہوئی۔‘‘

بھارتی سپریم کورٹ کی وکیل کارونا کنڈی کا کہنا تھا، ''یہ جیت اس لیے اہم ہے کہ ایک طاقت ور شخص نے، جسے تمام قانونی وسائل دستیاب تھے، ایک بہت ہی خطرناک رستہ اپنایا تھا۔‘‘

2018ء میں پریا رمانی سمیت کئی خواتین سوشل میڈیا کا سہارا لے کر جنسی ہراسیت کے متعدد واقعات سامنے لائی تھیں۔ بھارتی فلمی صنعت بالی وُڈ کی کئی اہم شخصیات بھی ان الزامات کی زد میں آئیں تھیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون اب تک ملکی خواتین کی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم ان واقعات اور ان کے باعث عدالتی کارروائی کے نتیجے میں عوامی آگہی زیادہ ہوئی ہے اور بہت سے آجر اداروں نے اپنے ہاں جنسی ہراسیت کے معاملات کو بہت سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔

ب ج / م م (اے پی)

’بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ زیادہ تر قابل بھروسہ افراد ہی بناتے ہیں‘

پاکستان میں جنسی ہراسگی: بیوہ جس نے اپنی جنگ خود لڑی اور جیتی