’ضرب عضب کی کامیابی‘ صرف فوجی و سول قیادت کے دعوے | NRS-Import | DW | 15.06.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

NRS-Import

’ضرب عضب کی کامیابی‘ صرف فوجی و سول قیادت کے دعوے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف "ضرب عضب" کے نام سے جاری فوجی کارروائی کا ایک سال مکمل ہونے پر سول اور فوجی قیادت کی طرف سے بڑی کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود چند سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی ذرائع ابلاغ پر اس فوجی کارروائی کے حوالے سے جتنی بھی معلومات سامنے آئیں ان میں سے بیشتر کا ذریعہ فوج کا شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کی گئیں اکثر پریس ریلیز ایک یا دو سطروں پر مشتمل ہوتی ہیں یا پھر میڈیا کو فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ''ٹویئٹر" پر کی گئی ٹویٹس سے اس فوجی کارروائٰی کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق ایک سال کے دوران لڑائی میں 2763 شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ساڑھے تین سو کے قریب فوجی افسر اور جوان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس لڑائی کے دوران عام شہریوں کی ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ آپریشن کے ابتدائی دنوں میں طالبان شدت پسندوں کا میڈیا بھی فعال تھا تاہم بعد میں وہ بھی غیر فعال ہو گیا اور یوں صرف فوج کی دی گئی معلومات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اگر آپ کو اتنی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تو آپ ذرائع ابلاغ کو ان علاقوں تک رسائی دیں تاکہ اس فوجی کارروائی میں معلومات کے حوالے سے شفافیت کا عنصر آئے اور اگر کوئی شکوک ہیں بھی تو وہ دور ہو جائیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے ڈیڑھ سو دن پورے ہونے پر فوج کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ نوے فیصد قبائلی علاقہ شدت پسندوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں وادی تیراہ بھی شامل تھی تاہم اب بھی وہاں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ آپریشن ضرب عضب کے دوران حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دس لاکھ افراد بے گھر ہو کر صوبہ خیبر پختوانخواہ کے مختلف علاقوں میں قائم کیمپوں اور اپنے رشتہ داروں عزیزوں کے ہاں پہنچے تھے۔ ایک سال گزرنے اور نوے فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کرانے کے دعوے کے باوجود ابھی تک چند سو خاندان ہی واپس اپنے علاقوں کو لوٹ سکے ہیں۔

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسفزئٰی نے کہا "حکومت کی طرف سے دیے گئے ٹائم فریم کے مطابق اس سال دسمبر تک اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں واپس بحال کیا جانا تھا تاہم ان کی واپسی کی رفتار بہت کم ہے ابھی تک دوسو سے بھی کم گھرانوں کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں واپس لے جایا گیا ہے۔ متاثرین کی بحالی کے لیے بہت بڑے وسائل درکار ہیں اس لیے یہ کہنا مشکل ہو گا کہ مقررہ وقت تک تمام آئی ڈی پیز کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔"

انہوں نے کہا کہ بعض قبائلی افراد کو اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے مبینہ طور پر اس معاہدے پر بھی تحفظات ہیں جس کے تحت حکومت انہیں تحریری طور پر پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ نہیں آنے دیں گے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق ان قبائلیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے جو دراصل حکومت کی ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ایک سالہ فوجی کارروائی کی وجہ سے ملک میں منظم دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضرب عضب کی وجہ سے مجموع طور پر دہشتگردی کے واقعات میں چالیس فیصد کمی آئی ہے اور اب شہروں میں دہشتگردی کی ٹارگٹڈ کارروائیاں ہو رہی ہیں لیکن ان کے مضمرات ویسے نہیں جو ایک سال قبل دہشتگردی کی بڑی وارداتوں کی وجہ سے پاکستانی معاشرے پر پڑ رہے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ جڑے بڑے گروپ تتر بتر ہو گئے ہیں ان میں سے بعض سرحد پار افغانستان میں چلے گئے ہیں اور چند ایک شہروں کے اندر انفرادی سطح پر دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔