صدر زرداری کا پارلیمان سے خطاب | حالات حاضرہ | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر زرداری کا پارلیمان سے خطاب

پیر کے روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے مسلسل چھٹی بار خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی پا کستان کی قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

default

صدر زرداری نے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نواز شریف توقعات پر پورا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ صدر زرداری نے کہا کہ انتخابات کے کامیاب انعقاد سے غیر جمہوری قوتوں کو دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے آئین سے غیر جمہوری شقوں کو نکال دیا ہے۔ اب اس ملک میں آمروں کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین توڑنا یا اسے معطل کرنا بغاوت ہے۔

امریکی ڈرون حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی خود مختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہ پاکستان خطے میں پر امن طور پر رہنا چاہتا ہے۔ صدر زرداری نے کہا:’’حکومت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اسی طرح ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری خود مختا ری کی خلاف ورزی کرے۔ پاکستان کی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔‘‘

صدر آصف علی زرداری نے ریکارڈ چھٹی مرتبہ پارلیمان سے خطاب کیا ہے

صدر آصف علی زرداری نے ریکارڈ چھٹی مرتبہ پارلیمان سے خطاب کیا ہے

صدرآصف زرداری پیر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے چھٹی مرتبہ خطاب کرنے والے پہلے صدر بن گئے ہیں۔ انہوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پارلیمان کے مشرکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ صدر کو خطاب کے دوران کسی بھی جماعت کی جانب سے بائیکاٹ یا احتجاج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس

ادھر پیر ہی کے روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تمام وزراء آئندہ پندرہ روز میں متعلقہ شعبوں کی بہتری کے لئے اہداف طے کر لیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے وزراء کو فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے وزرا ء کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب غیر سنجیدہ رویے سے کام نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ متعدد ملکی اداروں کی حالت بہت خراب ہے اور ان کی بہتری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

نواز شریف نے کہا:’’ہماری آنکھوں کے سامنے ریاست کے ملکیتی اداروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اور میں آپ کو یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ جو راستے میں مشکلیں آئیں گی، ہم ان کو ہر قیمت پر دور کریں گے۔ اگر ہم دور نہیں کر سکے تو پھر میں سمھجتا ہوں کہ ہمیں حق ہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں حکومت بنائیں اور چلائیں۔‘‘

کابینہ کے ارکان سے اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ اگر ہم مشکلات پر قابو نہ پا سکے تو پھر ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے

کابینہ کے ارکان سے اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ اگر ہم مشکلات پر قابو نہ پا سکے تو پھر ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے

قومی اقتصادی کونسل(این ای سی) اجلاس

نو تشکیل شدہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے 1155 ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پیر کے روز ہونے والے این ای سی کے اجلا س میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور کونسل کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لئے 540 ارب روپے جبکہ صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے615 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی، جس کے ارکان میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ شامل ہیں۔کمیٹی کو مختلف معاملات مد نظر رکھتے ہوئےآئین کے تحت ایسی پا لیسی وضع کرنے کا کام سونپا گیا ہے، جو ذمہ داریوں اور فرائض کا تعین کر سکے۔ این ای سی نے اس کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ صوبوں کو فنڈز جاری کرنے کے عمل کو بھی مربوط بنائے۔

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بجلی کے بحران اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لئے متعلقہ وفاقی وزراء کو خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کایہ بھی کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی راہ پر چلتے رہے اور جمہوری روایات کا احترام کر تے رہے تو وہ دن دور نہیں، جب ہم مہذب قوموں میں سر اٹھا کر کھڑے ہو سکیں گے۔ وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ صوبائی حکومتیں خلوص کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم قومی اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے۔ فنڈز کو ایمانداری کے ساتھ انہی منصوبوں پر خرچ کیا جائے، جن کے لئے وہ مختص کیے گئے ہیں"۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی