صحت مند پاکستان کے لیے کوشاں محمد اعظم، معاوضہ ایک مسکراہٹ | مقامی ہیروز | DW | 08.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

صحت مند پاکستان کے لیے کوشاں محمد اعظم، معاوضہ ایک مسکراہٹ

یہ بات آپ کے لیے حیرت کا باعث ہو کہ آج کل لاہور میں سورج طلوع ہونے سے پہلے سینکڑوں لوگ مختف پارکوں میں جمع ہوتے ہیں، مل کر ورزش کرتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں اور ایک دوسرے کو صحت کے مسائل کے حل کے لیے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔

بغیر کسی معاوضے کے جسمانی ورزشوں کے ذریعے لوگوں کی صحت کی بہتری کے لیے یہ کام ایک غیر سیاسی، غیر سرکاری اور غیر مذہبی ادارہ ’’دا ونڈرفل کلب‘‘ کر رہا ہے۔ چھیالیس سالہ محمد اعظم اس کلب کے سربراہ ہیں، اس کلب کے دس ہزار سے زائد اراکین انہیں اپنا سرپرست اعلیٰ کہتے ہیں۔ محمد اعظم پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور ایک آئل کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ ملازمت کے اوقات کے بعد ان کی ساری مصروفیات کا محور ’’دی ونڈرفل کلب‘‘ ہے۔

محمد اعظم اور ان کے بہت سے دوست لوگوں کو بلا معاوضہ یوگا سکھاتے ہیں، جسمانی ورزشیں کرواتے ہیں، تناؤ سے نجات حاصل کرنے اور خوش رہنے کے گُر بتاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اور شکر گزاری کا جذبہ رکھنے کی رغبت دلاتے ہیں۔

اپنی نوعیت کے منفرد سماجی رہنما محمد اعظم نے اپنی زندگی لوگوں کی صحت کی بہتری کے لیے وقف کر رکھی ہے، ’’یہ کوئی آٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ میں ماڈل ٹاؤن پارک میں واک کر رہا تھا، میں نے ایک معمر شخص کو یوگا کی ورزش کرتے دیکھا، یہ پنجاب یونیورسٹی کے ایک استاد پروفیسر واثق تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ورزش کے سیشن میں شریک ہونے کی دعوت دی، دیکھتے ہی دیکھتے مزید لوگ بھی شامل ہو گئے اور پھر یوں اپنی اور دوسروں کی صحت کی فکر کرے والے لوگوں کا ایک بڑا گروپ وجود میں آگیا۔ پھر یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔ آج صرف لاہور کے پچاس کے قریب پارکوں میں لوگ یوگا یا جسمانی ورزشوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کراچی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ’’ونڈرفل کلب‘‘ کھل رہے ہیں۔‘‘

انجینئر اعظم کے ایک ساتھی اور ’’دا ونڈرفل کلب‘‘ کے ایک اور ماہر نعیم احمد کیولری گراونڈ کے ایک پارک میں لوگوں کو جسمانی ورزشیں کرواتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کاروباری لوگ نہیں ہیں، ہمارا معاوضہ صرف ’’ایک مسکراہٹ اور دعا ہے۔‘‘

یعنی مسکرائیے اور دعا دیجئیے۔ ان کے بقول اب خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی پارکوں میں آکر ایک باپردہ ماحول میں یوگا سیکھ رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چند ہفتے پہلے لاہور کے مینار پاکستان پارک میں آٹھ نومبر کو تین ہزار سے زائد لوگوں نے مل کر ورزش کی، ان میں ایک ہزار سے زائد خواتین بھی شامل تھیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد اعظم نے بتایا کہ آج کل وزن بڑھنے، غیر محتاط طرز زندگی اختیار کرنے، غیر میعاری کھانے کھانے اور جسمانی لچک ختم ہو جانے کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول انسان سادہ اور صاف ستھری غذا کھانے، اچھی اور مثبت سوچ اپنانے اور ورزش کو اپنا معمول بنا لینے سے بہت سی بیماریوں سے بچ سکتا ہے، ’’جس طرح کپڑوں کی میل کچیل دور کرنے کے لیے انہیں دھلائی کے مراحل سے گزارا جاتا ہے بالکل اسی طرح انسان کی جسمانی کثافتوں کو دور کرنے کے لیے اس کا جسمانی ورزشوں کے مراحل سے گزرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے قوت مدافعت بھی بڑھتی ہے۔ اور کئی بیماریوں سے نجات بھی ملتی ہے۔‘‘

ان کے بقول لوگوں کو صحت کے امور سے آگاہی دے کر بھی صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

انجینئر محمد اعظم کہتے ہیں کہ ہم بھی کیا عجیب لوگ ہیں، چالیس ہزار روپے کی موٹر سائیکل میں چند روپے مالیت کا غیر میعاری لبریکنٹ نہیں ڈالتے ہیں کہ مبادا یہ مشین خراب نہ ہو جائے لیکن اللہ کی دی ہوئی یہ انتہائی قیمتی مشین جسے جسم کہا جاتا ہے اس میں فاسٹ فوڈ، سموسے، بیکری آئیٹمز، مصالحے اور گھی والی چیزوں سمیت نہ جانے کیا کیا کچھ ڈالتے رہتے ہیں۔

اس وقت اسی سے زائد ماسٹر ٹرینر مختلف شہروں کے پارکوں میں لوگوں کو یوگا سکھا رہے ہیں۔ محمد اعظم کے بقول یوگا کی ورزشیں نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر کرتی ہیں بلکہ یہ ذہنی نشوونما کے لیے بھی مفید ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق یوگا بچے جوان اور بوڑھے سبھی کے لیے مفید ہے، ’’یوگا قوت برداشت بڑھاتی ہے، تناو کم کرتی ہے، ہم اپنے نوجوانوں کو یوگا جیسی صحت افزا سرگرمیوں کی طرف لا کر انہیں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی طرف جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔‘‘

انجینئر اعظم کے بقول پرانے زمانے میں سکولوں کے اندر فیزیکل ٹریننگ کا ایک پیریڈ ہوا کرتا تھا، ’’آج تعیمی ادارے ایسی سرگرمیوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ انہیں ایسا دن دیکھنا نصیب ہو جب ملک کے تمام پارک لوگوں سے بھر جائیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش نہ نظر آئے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انجینئر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جسمانی ورزشیں تعلیمی نصاب کا حصہ ہوں، وہ ونڈرفل کلب کے سلسلے کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں یوگا، جسمانی ورزشوں اور صحت کے امور کی آگاہی کےلیے بھی ایک ٹی وی چینل ہونا چاہیے۔

ایک سماجی رہنما اور کاروباری شخصیت محمد اکرم نے بتایا کہ انہوں نے جب سے ورزش شروع کی ہے تب سے انہیں اپنی صحت میں بہتری محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب بات یہ ہے کہ ابتدائی طور پر ورزشیں کسی ماہر کی نگرانی میں ہی کی جائیں کیونکہ کمر درد، ہرنیہ اور گھٹنے کے درد کے شکار لوگوں کو بعض ورزشیں نہیں کرنی چاہیئں۔