شیعہ خواتین کو محرم کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی جائے، لاہور ہائی کورٹ | معاشرہ | DW | 02.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شیعہ خواتین کو محرم کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی جائے، لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے وزارت برائے مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ ان شیعہ خواتین کی بھی حج کی درخواستیں قبول کی جائیں جو محرم کے بغیر حج کرنا چاہتی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کی جانب سے شیعہ خواتین کو یہ ایک عبوری ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

سن دو ہزار تیرہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک فیصلے کی بنیاد پر خواتین کو بغیر محرم کے حج پر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اس سے قبل وزارت برائے مذہبی امور نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں اس عہدے دار کا تعین کرنے میں وقت لگے گا جس نے اس قانون کی منظوری دی تھی۔

اب عدالت کی طرف سے وزارت برائے مذہبی امور کو رواں برس کے لیے شیعہ خواتین کی حج کی درخواستیں قبول کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت چودہ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذہبی امور کی وزارت کی طرف سے شیعہ شہریوں، بالخصوص شیعہ خواتین کے ساتھ، امتیاز سلوک کیا جاتا ہے۔

گزشتہ سماعت کے دوران وزارت برائے مذہبی امور نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی حج پالیسی میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا نام تک حج پالیسی میں نہیں لکھا گیا۔

اس کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ ان عہدے داروں کا نام بتایا جائے جو اس فیصلے میں ملوث تھے۔

درخواست گزار کی وکیل بیرسٹر معصومہ زہرا بخاری نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ اس معاملے میں اسلام نظریاتی کونسل ایک مشاورتی ادارہ تھا اور اس کی سفارشات پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا جب تک انہیں قانون کی حیثیت حاصل نہ ہو۔

تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں فقہ جعفریہ کے نمائندوں نے بھی اس معاملے میں اختلاف رائے کا نوٹ درج کروایا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وزارت مذہبی امور انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بناتی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ان شیعہ خواتین کی حج کی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں جن کے ساتھ محرم نہیں ہوتا۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی ہے کہ شیعہ شہریوں کے فیصلے فقہ جعفریہ کے مطابق کیے جائیں۔