’شیر کے ہاتھ سے پنجاب بھی گیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 16.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’شیر کے ہاتھ سے پنجاب بھی گیا‘

پاکستان مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ پنجاب میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ تحریک انصاف کی حمایت سے اسپیکر منتخب ہو گئے۔ یوں پنجاب میں نون لیگ کی حکومت بننے کے امکانات قریب ختم ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور سندھ میں آج گزشتہ ماہ کے پارلیمانی انتخابات کے بعد وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی کر لیا گیا ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل تھی۔ پیپلز پارٹی نے مراد علی شاہ کو منصب وزارتِ اعلیٰ پر برقرار رکھا اور وہ باآسانی منتخب ہو گئے۔

شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کو عددی برتری حاصل تھی۔ تحریک انصاف نے اس مرتبہ محمود خان کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ محمود خان بھی باآسانی وزیر اعلیٰ منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے آج عبدالقدوس بزنجو کو نیا اسپیکر منتخب کیا ہے۔ بلوچستان میں پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی اتحاد بنائے ہوئے ہے۔

پنجاب: شیر، بلا اور ٹریکٹر

اُدھر پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی میں بھی نئے اسپیکر کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما پرویز الہی نے پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار کو شکست دی ہے۔ الہی کو عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی۔

اس صوبے میں تحریک انصاف اور نواز لیگ کی نشستوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ تاہم پرویز الہیٰ کو پی ٹی آئی اور قاف لیگ کے امیدواروں کی تعداد سے بھی زیادہ ووٹ ملے۔ مسلم لیگ نون کے قریب پندرہ ارکان نے بھی انہیں ووٹ دیے جس کے بعد اس جماعت میں فارورڈ بلاک بن جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

پرویز الہیٰ نے مسلم لیگ نون کے ارکان کے شدید احتجاج کے دوران اسپیکر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

سوشل میڈیا پر پنجاب میں مسلم لیگ نون کے مسلسل دس سالہ اقتدار کے خاتمے اور تحریک انصاف کی جانب سے پرویز الہیٰ کو اسپیکر نامزد کرنے کے حوالے تعریف اور تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تحریک انصاف کے زیادہ تر حامی پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کی جیت کو عمران خان کی 'سیاسی بصیرت‘ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ایک ایسے شخص کی حمایت کرنا، جسے وہ ماضی میں خود ہی ’ڈاکو‘ قرار دیتے رہے ہیں، محض روایتی مفاد پرستی کی سیاست کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

صحافی ندیم ملک نے پوچھا، ’’پرویز الہیٰ 201 ووٹ لے کر اسپیکر منتخب۔ اضافی ووٹ کہاں سے آئے؟‘‘ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ ڈک ورتھ لوئیس فارمولے کا نتیجہ ہے۔‘‘

ایک صارف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف دس برس قبل مسلم لیگ قاف کے ووٹ توڑ کر اقتدار میں آئے تھے، اب انہیں خود ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔

DW.COM