’شدت پسند تنظیموں کے رکن افغان اور پاکستانی پناہ گزین‘ | معاشرہ | DW | 11.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’شدت پسند تنظیموں کے رکن افغان اور پاکستانی پناہ گزین‘

جرمن حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہزار سے زائد تارکین وطن پر شبہ ہے کہ وہ اپنے اپنے وطنوں میں ’جنگی جرائم‘ میں ملوث رہ چکے ہیں۔ بی اے ایم ایف کے سربراہ کے مطابق اکثر ایسے دعوے خود مہاجرین کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں کے دوران جرمنی میں یہ بحث بھی زوروں پر ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنے اپنے ممالک میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں اور کئی ایسے جرائم کے بھی مرتکب رہ چکے ہیں جنہیں ’جنگی جرائم‘ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

اتوار دس مارچ کے روز جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت و ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے صدر ہانس ایکہارڈ زومر نے مقامی اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیموں اور ’جنگی جرائم کے مرتکب‘ پناہ کے درخواست گزار دراصل خود ہی ایسے دعوے کرتے ہیں۔

اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے بی اے ایم ایف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی تارکین وطن اپنی پناہ کی درخواستوں میں خود ہی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی وطنوں میں طالبان یا ان جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں سے منسلک رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد عام طور پر ایسے دعوے جرمنی سے ملک بدری کے خطرے سے بچنے اور سیاسی پناہ کے حصول کے امکانات بڑھانے کے لیے کرتے ہیں۔

جرمن پارلیمان میں وفاقی وزارت داخلہ نے گزشتہ ہفتے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ سن 2014 سے لے کر سن 2019 تک سیاسی پناہ کے پانچ ہزار سے زائد درخواست گزار ایسے تھے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اپنے آبائی وطنوں میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان معاملوں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ہانس ایکہارڈ زومر کے مطابق ان پانچ ہزار افراد میں سے بڑی تعداد ایسے ہی تارکین وطن کی ہے جنہوں نے خود کالعدم تنظیموں سے وابستہ ہونے کے دعوے کیے تھے اور اسی لیے ان کے مقدمات تفتیشی اداروں کو سپرد کر دیے گئے تھے۔

انہوں نے بی اے ایم ایف کے ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفاقی ادارہ ایسے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے اور کیوں کہ بی اے ایم ایف خود کوئی تفتیشی ادارہ نہیں ہے اسی لیے یہ مقدمات تحقیقات کے لیے سکیورٹی اداروں کو بھیج دیے جاتے ہیں۔

ش ح / ا ب ا / خبر رساں ادارے

DW.COM