1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شادی یا پارٹنر شپ، ملالہ کے بیان پر تنقید کا طوفان

عبدالستار، اسلام آباد
3 جون 2021

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پر پاکستان میں چند حلقوں کی طرف سے تنقید کے نشتر ہمیشہ سے ہی چلائے جاتے رہے ہیں لیکن تنقید کا موجودہ طوفان ان کے ایک انٹرویو کے بعد اٹھا ہے، جو انہوں نے ایک برطانوی جریدے کو دیا۔

https://p.dw.com/p/3uO5Q
Malala Yousafzai | Tokyo, Japan
تصویر: Rodrigo Reyes Marin/ZUMA/imago images

اپنے انٹرویو میں ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان کی سمجھ میں ابھی تک یہ نہیں آیا کہ اگر کسی کو آپ کی زندگی میں آنا ہے، تو اس کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں ضروری ہیں، یہ صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی؟ ان تاثرات پر پاکستان میں تنقید کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے، جسے حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین 'شرمناک‘ قرار دے رہی ہیں۔

ملالہ پر تنقید نئی بات نہیں

لاہور سے تعلق رکھنے والی عوامی ورکرز پارٹی کی رہنما شازیہ خان کا کہنا ہے کہ ملالہ کے خلاف اس طرح کی تنقید کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب ملالہ یوسف زئی پر فائرنگ کی گئی اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی، اس وقت بھی بدقسمتی سے ان پر دشنام طرازی کی جارہی تھی۔ جب ان کو نوبل انعام ملا، اس وقت بھی ان کو گالیاں دی جا رہی تھیں۔ اصل مسئلہ ملالہ کا انٹرویو نہیں بلکہ وہ بیانیہ ہے، جو رجعت پسند قوتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ خواتین کے حقوق مارنے کی بات کرتا ہے اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ کیونکہ ملالہ اس بیانیہ کے خلاف ہیں اس لئے ان کے خلاف بھرپور مہم چل رہی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ شرمناک بات ہے کہ اس ملک کے دو شہریوں نے نوبل انعام حاصل کیے ہیں اور دونوں سے ہی یہاں نفرت کی جاتی ہے۔ دونوں کو پوری دنیا میں عزت و توقیر کے تمغے دیے گئے لیکن ان کے اپنے ملک میں ان کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں۔‘‘

سازشی نظریات

سابق سینیٹر اور سینٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کی سابق سربراہ نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کو ملالہ یوسفزئی پر فخر ہونا چاہیے اور سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،''بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں سازشی نظریات کی روایت بہت زور پکڑ رہی ہے اور ہم ملالہ یوسف زئی کو بھی اسی سازشی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کتنی ایسی پاکستانی خواتین ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام بلند کیا ہے یا شہرت کمائی ہے۔ ہمیں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ملالہ یوسفزئی کا جذبہ دیکھنا چاہیے، بجائے اس کے کہ ہم اس پر تنقید کے نشتر چلائیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو طویل تھا اور اگر اس میں انہوں نے کچھ تاثرات ایسے دیے ہیں، جو کسی کو غلط لگتے ہیں تو وہ اس پر شائستہ انداز میں تنقید کر سکتے ہیں، ''لیکن اس طرح گالی گلوچ کرنا اور غیر مہذب زبان استعمال کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ اس سے صرف ملک کی بدنامی ہو گی اور جو لوگ اس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں ان کی ذہنی پستی عیاں ہو گی۔‘‘

حقوق نسواں کی معروف کارکن فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں سے کسی ایک بات کو پکڑ کے اس کا بتنگڑ بنانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہر فرد کی مختلف مسائل کے حوالے سے ذاتی رائے ہوتی ہے اور ہمیں اس ذاتی رائے کا احترام کرنا چاہیے لیکن ہمیں مجموعی طور پر دیکھنا چاہیے کہ ملالہ کیا کر رہی ہے۔ اس نے بچیوں کی تعلیم کے لیے پوری دنیا میں کام کیا ہے۔ جہاں جہاں وہ جاتی ہے پاکستان کا نام بھی ساتھ آتا ہے۔ ایسی شخصیت کے لئے گالیاں نکالنا یا غیر مہذب زبان استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘

سابق رکن قومی اسمبلی اور عوامی نیشنل پارٹی کی سابق رہنما بشرٰی گوہر کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی نے پوری دنیا میں پشتونوں کے اس تصور کو غلط ثابت کیا جس کے تحت یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ پشتونوں کی اکثریت طالبان کو پسند کرتی ہے یا طالبان پشتونوں کے نمائندے ہیں۔

ڈی ڈبلیو نے جب سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کی رہنما ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی سے رابطہ کر کے اس حوالے سے تاثرات جاننے چاہے تو انہوں نے یہ کہہ کہ معذرت کر لی کہ ایک بار ان کے والد قاضی حسین احمد نے ملالہ کے لئے اچھی خواہشات کا اظہار کیا تھا لیکن ملالہ اور ان کے والد نے اسے منفی انداز میں لیا تھا، ''تب سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ملالہ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کروں گی۔ صرف ان کے لئے دعا کر سکتی ہوں۔‘‘