سیرل المیڈا کی گرفتاری کا وارنٹ، سوشل میڈیا پر بحث | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سیرل المیڈا کی گرفتاری کا وارنٹ، سوشل میڈیا پر بحث

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے معروف پاکستانی صحافی سیرل المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے زبردست ردعمل دیکھا گیا ہے۔

سیرل المیڈا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ’سنگین غداری‘ کا مقدمہ جاری ہے، جب کہ اس مقدمے میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔ پیر 24 ستمبر کو  عدالت نے المیڈا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظاہر علی اکبر کی سربراہی میں فل بینچ نے پیر کے روز نے کہا کہ سیرل المیڈا تیسری پیشی پر بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، اس لیے ان کے خلاف ’ناقابل ضمانت وانٹ گرفتاری‘ جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو آٹھ اکتوبر کو آئندہ پیشی پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سابقہ پیشی پر عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ضمنی انتخابات کے لیے مہم چلانے کے لیے وقت دیا تھا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2016ء میں سیرل المیڈا نے پاکستانی اخبار ڈان میں ایک مضمون تحریر کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی سویلین حکومت کی جانب سے فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی ’معاونت‘ ترک کرے، دوسری صورت میں پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو جائے گا۔ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق اس اعلیٰ ترین اجلاس میں ہونے والی گفتگو سیرل المیڈا کی جانب سے شائع کیے جانے پر پاکستان میں ایک بھونچال آ گیا تھا۔ اس معاملے کو ’ڈان لیکس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ رواں برس اپریل میں المیڈا ہی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا ایک خصوصی انٹرویو لیا تھا، جس میں نواز شریف نے اشارہ دیا تھا کہ سن 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں پاکستان ہی کے ’غیر ریاستی عناصر‘ ملوث تھے۔ اس معاملے پر بھی پاکستان میں زبردست بحث ہوئی تھی اور اسے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے سے عبارت قرار دیا گیا تھا۔

سیرل المیڈا کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جانے پر سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں ایک طرف متعدد افراد سیرل المیڈا کی گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے جانے پر خوش ہیں، تو دوسری جانب لوگ اسے آزادیء اظہار رائے پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارف عاصم دستگیر نے لکھا کہ پاکستان میں ’غداری‘ کے معاملے کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارف ایمان زینب کے مطابق یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں ہر حق گو صحافی کے خلاف ایک مہم جاری ہے۔

خرم شیخ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھتے ہیں، ’’بہترین وقت ہے کہ سیرل المیڈا سے تحقیقات کا آغاز کیا جائے، اگر وہ بے قصور نکلیں، تو صرف تبھی ہم المیڈا کا ساتھ دیں گے، دوسری صورت میں ہمیں کوئی غرض نہیں۔‘‘