1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سیاچن گلیشیئر: پاک بھارت مذاکرات کا نیا دور

30 مئی 2011

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن معاملات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ ان مذاکرات میں ممبئی کے دہشت گردانہ واقعات اہم رکاوٹ خیال کیے جاتے ہیں۔ سیاچن گلیشیئر پر مذاکرات کا یہ مجموعی طور پر بارہواں دور ہے۔

https://p.dw.com/p/11QmA
سیاچن پر جاتے بھارتی فوجی: فائل فوٹوتصویر: APTN

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیر، تیس مئی سے شروع ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید اطہر علی اور ان کے بھارتی ہم منصب پردیپ کمار اپنے اپنے ملکوں کے وفود کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان وفود میں اعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں۔ پیر کے روز دونوں سیکرٹریوں کے درمیان بند کمرے میں بھی ملاقات ہوئی۔ دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان مذاکرتی عمل مختلف سیشنوں میں جاری رکھا جائے گا۔ بات چیت کے تمام ادوار بند کمرے میں ہونے کے مکانات ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ملک اس معاملے پر پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کی کوششوں میں ہیں اور اس بات چیت کے دور کا نتیجہ بھی سابقہ گیارہ ادوار کی طرح ہو گا۔

ممبئی میں سن 2008 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ تمام مذاکراتی عمل معطل کر دیے تھے۔ اس میں سیاچن گلیشیئر پر بات چیت بھی شامل تھی۔

Flash-Galerie Siachen Gletscher
سیاچن گلیشیئر کے بیس کیمپ سے بھارتی فوجی بلندی کی طرف جاتے ہوئےتصویر: AP

اس بات چیت میں سیاچن گلیشیئر کو دونوں ملکوں کے مسلح فوجیوں سے پاک رکھنے کی بات چیت اہم خیال کی جا رہی ہے۔ بھارت، سیاچن گلیشیئر کر اسٹریٹیجک نوعیت کا مقام قرا دیتا ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان واقع ہونے کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے بھی متصل ہے۔

اس بلند اور سرد ترین محاذ پر پاک بھارت مخاصمت کا سلسلہ سن 1984میں شروع ہوا تھا جب بھارت نے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ گزشتہ ستائیس سالوں کے دوران سیاچن کے سرد محاذ جنگ پر پاکستانی اور بھارتی فوج کے درمیان کئی جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

چار سال بعد شروع ہونے والے موجودہ بات چیت کے دور کوبھی پہلے سے جاری مجموعی جامع امن مذاکرات کا حصہ خیال کیا جاتا ہے۔ اسی ماہ کے دوران دونوں ملکوں کے دفاعی شعبے کے افسران دوسری مرتبہ ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد میں سر کریک کے متنازعہ ساحلی علاقے کے حوالے سے دفاعی امور کے ماہرین ملاقات کرچکے ہیں۔

سیاچن گلیشیئر تقریباً 75 کلو میٹر لمبا اور پانچ کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس پر درجہ حرارت منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سطح سمندر سے 63 سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس محاذ جنگ پر پاکستان کے تقریباً دس ہزار، جبکہ بھارت کے بیس ہزار فوجی موجود ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں