سیاسی ہُلڑ بازی اور دائرے کے سفر سے واپسی | دستک | DW | 27.03.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کالم

سیاسی ہُلڑ بازی اور دائرے کے سفر سے واپسی

خان صاحب نےکہا کہ دو بڑی جماعتوں نےآپس میں باریاں لگالی ہیں، طےکرلیا ہےکہ ایک دوسرے کا احتساب نہیں کریں گے۔ پورا سچ یہ ہےکہ میثاقِ جمہوریت کے تحت باریاں طے نہیں ہوئی تھیں، باری لینے کا اخلاقی طریقہ طے ہوا تھا۔ فرنود عالم

فضل الہی چوہدری مغربی پاکستان کے اسپیکر اور پھر پاکستان کے صدر رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب بے یقینی کی صورتِ حال تھی تو دلی میں مولانا آزاد سے ان کی ملاقات ہوئی۔وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کا ذکر آنے پر مولانا نے کہا،''پاکستان کو سمجھائیے کہ عصرِ حاضر میں سرکاری اہلکاروں کا حکومتی منصب پر فائز ہونے کو مناسب نہیں سمجھا جاتا۔زور دے کر کہا، پاکستان کو جمہوریت کے سوا کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔پھر فرمایا،پاکستان میں بار بار انتخابات کروائیے۔کمزور جمہوریت کا انتخابات کے سوا کوئی علاج نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کی بدقسمتی ہی یہ ہے کہ یہاں ہر دو انتخاب کے بیچ عشروں کا فاصلہ رہا ہے۔سرکاری اہلکاروں کا حکومتی دورانیہ اب بھی جمہوری دورانیے سے زیادہ بنتا ہے۔جو دورانیہ جمہوریت کا بنتا ہے، اس میں بھی خارجہ، داخلہ اور خزانہ جیسے قلمدان سرکاری اہلکاروں نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں۔اٹھاسی میں بی بی نے سرکاری اہلکاروں کے اتارے ہوئے نو رتنوں کو شکست دی تو بہت بے دلی سے اقتدار منتقل کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے یہ شرط رکھی کہ سرکاری اہلکاروں کو حصہ دیا جائے گا۔اِن اہلکاروں نے جمہوری حکومتوں میں مداخلت کے سوا کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کیا۔

انتخابات میں پیدا ہونے والے تعطل کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سیاسی کارکنوں کی تربیت نہ ہوسکی۔ سیاسی کارکن پولیٹیکل سائنس کی کسی کتاب سے نہیں، رہنماؤں کی تقریروں سے بھی نہیں بلکہ صحت مند سیاسی سرگرمیوں سے سیکھتا ہے۔یہ انتخابات کا تسلسل ہی ہے جس نے ہمارے ہم عمر ملک بھارت میں Constitutionalism یعنی آئین پسندی پیدا کی۔ یہ درست ہے کہ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی موجود ہے، مگر اسے آئینی قانونی اور نصابی حیثیت حاصل نہیں ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے والے سیکشن 377 کا خاتمہ کیا تو ججز کی زندگیوں کو خطرات لاحق نہیں ہوئے۔فیصلہ لکھنے والے ججز اپنے ذاتی خیالات میں ہم جنس پرستی کے قائل نہیں تھے،مگر ایک طبقے کی زندگی پر اُن کے اختیار کو انہوں نے دل سے قبول کیا۔فیصلہ دیتے وقت چیف جسٹس نے کہا، ہم یہ حق اس لیے دے رہے ہیں تاکہ بھارت میں آئین پسندی کا سفر مزید تیز ہوسکے۔

پاکستان میں مسلسل مداخلتوں کی وجہ سے سیاسی کارکن کا مزاج انقلابی رہا ہے۔سیاسی تربیت کا عمل تب شروع ہوا جب جنرل مشرف عوامی ایوان سے بے دخل ہوئے۔اس تربیت میں اُن تین انتخابات نے کردار ادا کیا جو تسلسل کے ساتھ ہوئے۔اس تسلسل کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار "میثاقِ جمہوریت"نے ادا کیا۔یہ میثاق دراصل ماضی کے تجربات سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا ایک تہیہ تھا۔سرکاری اہلکاروں نے اس میثاق کو بجا طور پر اپنے غیر آئینی اجارے کے لیے خطرہ سمجھا، چنانچہ انہوں نے میثاقِ جمہوریت کو "مُک مُکا" سے تعبیر کردیا۔ اسی تعبیر کو لے کر خان صاحب نے اپنے سیاسی سفر کا نئے انداز سے آغاز کیا۔

خان صاحب نے کہا کہ دو بڑی جماعتوں نے آپس میں باریاں لگالی ہیں۔انہوں نے طے کرلیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احتساب نہیں کریں گے۔ پورا سچ یہ ہے کہ میثاقِ جمہوریت کے تحت باریاں طے نہیں ہوئی تھیں، باری لینے کا اخلاقی طریقہ طے ہوا تھا۔ایک دوسرے کا محاسبہ نہ کرنے کا وعدہ نہیں ہوا تھا، محاسبے کے لیے غیر سیاسی میزان نہ لگانے کا وعدہ ہوا تھا۔یعنی طے ہوا تھا کہ منتخب جماعت کو اپنی باری پوری کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنی باری کے لیے پانچ سال بعد عوام کی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ عوام کے سامنے اپنا سیاسی منشور اور سابقہ ریکارڈ پیش کرنا پڑے گا۔ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے ساری بازیاں سیاسی شطرنج پر کھیلی جائیں گی۔بری چال چلنے والا بساط لپیٹنے کے لیے چور دروازے پر دستک نہیں دے گا۔عوامی عدالت کا فیصلہ کافی اور حتمی تصور کیا جائے گا۔وہ چاہے تو پچھلی حکومت کو ایک موقع اور دیدے چاہے تو کسی نئی جماعت کے حق میں فیصلہ سنادے۔

سرکاری اہلکاروں نے سیاسی کارکنوں کے لیے مسلسل ایسے چیلنجز پیدا کیے رکھے کہ میثاقِ جمہوریت کا بھرم رکھنا خاصا مشکل ہوگیا۔ کبھی چھڑی گھماکر میموگیٹ اسکینڈل سامنے کردیا، کبھی ہیٹ میں سے کلبھوشن یادیو نام کا کبوتر نکال لیا۔میڈیا کے ذریعے غداری کی لکیریں کھینچ کر کچھ سوالات ترتیب دیے گئے۔ تم کلبھوشن کے ساتھ ہو یا پاکستان کے ساتھ؟ تم حسین حقانی جیسے غدار کے ساتھ ہو یا پاکستان کے ساتھ؟ ایسے سوال کر کے کارکن کو دراصل ایسی مشکل میں ڈالا گیا جس سے نکلنے کا راستہ یہی تھا کہ عوامی سیاسی جماعتوں سے کنارہ کرلیا جائے۔یہ وہ چیلنج ہے جس کی تاب حلقہ رکھنے والا ایک سیاست دان نہیں لاسکتا۔اپنی بات پر قائم رہ کر سیاسی خود کشی کرنے کی بجائے وہ سمجھوتہ کرکے اپنا حلقہ بچائے گا۔سازشوں کی بارشوں میں سیاست دان اپنا حلقہ بچانے گئے تو پیچھے میثاقِ جمہوریت کے اہم صفحے گیلے ہوگئے۔اس سے پہلے کہ یہ صفحے دھوپ میں رکھ کر سُکھائے جاتے، مری روڈ کی طرف سے تیز آندھی آئی اور کام کے سارے اوراق اڑا کر لے گئی۔

میثاقِ جمہوریت کے نتیجے میں کوشش یہ کی گئی تھی کہ مقابلے کے میدان سے تیسرے فریق کو نکال باہر کیا جائے گا۔چور دروازے کو ادھیڑ کر ایک آئینی دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ایسا ہوجائے تو سیاسی اکھاڑے میں یکسوئی پیدا ہوجائے گی۔سیاست دانوں میں یہ احساس جنم لے گا کہ سیاست کے اسی بازار میں جینا ہے اور اسی میں مرنا ہے۔ کم بختی یہ ہوئی کہ سرکاری اہلکاروں نے تحریک لبیک، سپاہ صحابہ اور جماعۃ الدعوہ جیسی تنظیموں کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروادیا اور پارلیمان پر ایک سانس میں سترہ حملے کردیے۔جہاں ایک چور دروازہ تھا وہاں آٹھ دروازے لگا دیے۔دو ہزار اٹھارہ کے انتخاب کے لیے ٹکٹوں کی خیرات انہی دروازوں پر بٹی تھی۔

 

نوے کے بالکل ابتدا میں آکر کھڑی ہوگئی ہے۔کچھ دیر کے لیے جو غیر سیاسی نعرے تھمے تھے، پھر سے لگ رہے ہیں۔ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لینے والی روایت نے ابھی دودھ کے دانت بھی نہیں گرائے تھے کہ آئی سی یو میں پہنچ گئی۔پھر حرمتِ رسول کے نعرے ہیں اور حب الوطنی  کی بتوڑیاں ہیں۔ پھر سے کانٹا خلا میں لٹکے ہوئے ایک ایسے گھڑیال میں گھوم رہا ہے جو وقت پر ٹائم نہیں بتاتا۔ وقت گزرنے پر بس اتنا بتاتا ہے کہ اب تک کتنا وقت ضائع ہوچکا ہے۔ 

پھر سے ایک وزیر اعظم کی وقت سے پہلے روانگی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ یہ اچھا نہیں ہوا، مگر کیا سیاست دان اس کے تنہا ذمہ دار ہیں؟ نہیں، اصل مسئلہ وہ دروازہ ہے جو سرکاری اہلکاروں کی گلی میں نکلتا ہے۔یہ بند ہو تو مقابلے میں یکسوئی ہوتی ہے۔ یہ کھلا ہو تو ہر فریق کے کان کھڑے رہتے ہیں۔ اِس سے پہلے کہ کوئی دوسرا پہنچے، میں پہنچ جاؤں۔

جو نقطہ ہمارے کام کا ہے، وہ یہ ہے کہ نوے میں جن تجربات سے میاں نواز شریف گزرے، آج اسی تجربے کا عمران خان کو سامنا ہے۔ عمران خان نے غیر سیاسی نعروں کا سہارا لے کر میدان مارا۔ اقتدار ملا تو واپس لوٹنے کی بجائے وہ غیر سیاسی راستے پر بارہ بُرج اور آگے نکل گئے۔آئین سازی کی بجائے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا۔سیاسی تنازعات کو حل کرنے کی ذمہ داری نیب کو سونپی۔اہم ریاستی امور پر رائے دینے کے لیے سرکاری اہلکاروں کو خوشی سے آگے کیا۔منتخب اراکین پر بھروسہ کرنے کی بجائے سرکاری اہلکاروں کو کابینہ میں جگہ دی۔ اب وقت پڑا ہے تو انہیں اندازہ ہورہا ہے کہ سیاست میں دائمی حقیقت صرف عوامی نمائندے ہوتے ہیں۔سرکاری اہلکار تو بھوت ہوتے ہیں، جو چلتے چلتے اچانک گُدی پر زور کی ایک چپت لگاتے ہیں اور گم ہوجاتے ہیں۔مڑ کے دیکھو تو وہ دور کہیں لمز یونیورسٹی میں طلبا کے بیچ بیٹھے ہوتے ہیں۔بہت معصومیت سے پوچھ رہے ہوتے ہیں، جب عوام صحیح لوگوں کو منتخب نہیں کریں گے تو خود بتاؤ یہ ملک کیسے ٹھیک ہوگا؟

بہرکیف، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جس سے لاکھوں لوگ والہانہ وابستگی رکھتے ہیں۔تحریکِ عدمِ اعتماد سے پہلے ہونے والا اس کا ہر جلسہ عوامی طاقت کا ایک بھرپور اظہار ہے۔موجودہ منظرنامہ جو بھی ہو، آنے والے وقتوں میں جب فہرست مرتب ہوگی تو عمران خان کا نام انہی وزرائے اعظم کے ساتھ لکھا ہوگا جو اپنی مدت پوری نہیں کرسکے۔ ہم یونہی تپتے ہوئے دائروں میں گھومتے رہیں گے یا کچھ دیر چھاؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈا پانی بھی پئیں گے؟

ایسے میں کیا ہو؟ ایسے میں سیاسی دانش رکھنے والا کوئی گروہ ہو یا جماعت ہو جو دھول بیٹھنے کے بعد یکساں تجربات کا ایک چارٹ سامنے رکھ کر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر باہمی ''مُک مُکا‘‘ کی طرف لے کر آئے۔مگر اس سے پہلے ایک بامعنی ڈائیلاگ کے ذریعے ریاستی اداروں کے بیچ ''مک مکا‘‘ کا کوئی راستہ نکالے۔

اس ڈائیلاگ کی تجویز بہت پہلے Truth and Reconciliation Commission کے عنوان سے بینظیر بھٹو نے دی تھی۔حالیہ برسوں میں یہی تجویز Inter-institutional Dialogue کی صورت میں رضا ربانی نے تب دی تھی جب وہ چئیرمین سینیٹ تھے۔شاہد خاقان عباسی نے یہی تجویز Truth Commission کے نام سے تب دہرائی جب وہ وزیر اعظم تھے۔

حیران کن طور پر ہر بار کمیشن والی تجاویز کی مخالفت انہی دھڑوں نے کی جن کے مفادات طاقت کے غیر جمہوری مراکز سے وابستہ تھے۔ حالانکہ ان تجاویز میں ماضی کے کیے پر سزاؤں کے کوئی تقاضے شامل نہیں ہیں۔اتنی سی خواہش ہے کہ  آئے روز کی مارا ماری کی بجائے ایک ہی بار بات کرلی جائے اور ایک ہی بار بات سن لی جائے۔جس کا جتنا قصور نکلتا ہے اس کا اعتراف کرلیا جائے اور آگے بڑھنے کے لیے آئینی دائرے کھینچ لیے جائیں۔یہ ہوجائے تو جمہوریت کے نئے میثاق کے لیے الگ سے ایک میز لگالی جائے۔   

سیاسی قیادت ماضی قریب ترین کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کسی ''مُک مُکا‘‘پر پہنچ جائے تو ہماری شعوری ترقی کا سفر تیز اور بہت تیز ہوسکتا ہے۔اگر نہیں، تو پھر کوہلو کے بیل ہیں اور دائرے کا سفر ہے۔ برابر گھومتے جائیں۔ برابر جھومتے جائیں۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ملتے جلتے مندرجات