سیاسی گرفتاریاں: احتساب یا انتقام؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سیاسی گرفتاریاں: احتساب یا انتقام؟

چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پاکستان کے تین اہم سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کی خبروں نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔

ابھی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری پر سندھ سے احتجاج کی خبریں آ رہی تھیں کہ منگل کے روز نیب حکام نے  پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز کو بھی  گرفتار کر لیا۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری کی خبروں پر ابھی تبصرے جاری ہی تھے کہ لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گرفتاری کی اطلاع بھی آ گئی۔

الطاف حسین تو کافی عرصے سے سیاسی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد سندھ کے کچھ شہروں میں غم و غصہ ہے جبکہ حمزہ شہباز کی گرفتاری پر پنجاب میں مسلم لیگ نون کے حمایتوں نے بھی علامتی احتجاج کیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے وزرا  کے نزدیک ان گرفتاریوں سے قانون کی حکمرانی بلند ہوئی ہے اور کرپشن کے خلاف عمران خان کا سخت موقف نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔

 لیکن تجزیہ نگار امتیاز عالم کا خیال ہے کہ حزب اختلاف کے سیاستدانوں پر بنائے جانے والے کیسز ابھی محض الزامات ہیں اور ان کا ثابت ہونا باقی ہے۔ ان کے خیال میں یہ گرفتاریاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو قریب لانے اور مشترکہ احتجاجی مہم چلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

امتیاز عالم کے بقول شہباز شریف کی گرفتاری نے ہی نون لیگ کو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ریلیف ملنے کے امکانات کو ختم کر دیا تھا۔ اب حمزہ شہباز کی گرفتاری سے اس پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے کہ مصالحت کی بچی کھچی امید بھی نہیں رہی۔

امتیاز عالم کا خیال ہے کہ ان گرفتاریوں سے اقتصادی میدان میں حکومتی ناکامیوں سے کچھ دیر کے لیے میڈیا کی توجہ ضرور ہٹ گئی ہے، لیکن آنے والے دنوں میں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے چیلنج اپوزیشن کی تحریک میں جان ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار برگیڈیئر(ر) فاروق حمید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ تازہ صورتحال میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درد کے رشتے مشترکہ احتجاجی تحریک میں ڈھل تو سکتے ہیں لیکن اس تحریک کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستان کے عوام مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث لیڈروں کو سپورٹ کرتے ہیں یا نہیں۔

فاروق حمید کے مطابق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ حکومت مخالف سیاست دانوں سے کسی قسم کی مصالحت پر تیار دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کی نظر میں  آنے والے دنوں میں نہ صرف شہباز شریف بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے کچھ لیڈروں کو بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ہمیشہ کی طرح احتساب کے نام پر سیاسی انتقام  لیا جا رہا ہے یا واقعی کرپشن کے خاتمے کے لئے پہلی بار ملک کے دو بڑے سیاسی خاندان قانون کی پکڑ میں آ رہے ہیں؟

 امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نظام ہائی جیک ہو چکا ہے، سویلین بالادستی کی منزل ابھی بہت دور ہے اور یہ تب تک ممکن نہیں ہوگا جب تک عوام اپنے آئینی حقوق کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔ ان کے خیال میں جب تک جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتیں مصالحت ترک کر کے آگے نہیں بڑھتیں، ریاست کا بنیادی کردار اور سول ملڑی عدم توازن ٹھیک نہیں ہو گا۔