سن 2017 کے دوران 81 صحافی مارے گئے | معاشرہ | DW | 31.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سن 2017 کے دوران 81 صحافی مارے گئے

ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والے سال 2017 میں اکیاسی صحافیوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ یہ رپورٹ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے جاری کی ہے۔

دنیا بھر میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی  سالانہ رپورٹ ’کِل رپورٹ‘ کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی فرائض کے دوران سن 2017 کے دوران مجموعی طور پر81 صحافی ہلاک ہوئے۔ گزشتہ برس سن 2016 میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 93 تھی۔

ہلاکتیں کم ہو گئیں مگر خطرہ برقرار

ترکی میں قید جرمن صحافی کی رہائی کا عدالتی حکم

فرانسیسی صحافی کی بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گرفتاری

بھارت: فوجی نے صحافی کو گولی مار دی

اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان صحافیوں میں سے کئی نشانہ بنا کر بھی ہلاک کیے گئے جب کہ چند ایک بم پھٹنے سے بھی اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اس کے علاوہ دو طرفہ فائرنگ کی لپیٹ میں بھی آ کر صحافیوں نے اپنی زندگی کی بازی ہاری۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کئی صحافیوں کو پرتشدد تنظیموں نے اغوا کر کے بھی ہلاک کیا۔

صحافیوں کی یہ بین الاقوامی تنظیم اپنی سالانہ بنیاد پر جاری کی جانے والی ’کِل رپورٹ‘ میں صحافیوں کی جن حالات میں موت واقع ہوتی ہے، اُسں کی تفصیل بھی شائع کرتی ہے۔ اس سالانہ رپورٹ کے مطابق مختلف پرتشدد واقعات میں زخمی ہونے والے صحافیوں کی تعداد 250 سے زائد ہے۔

صحافیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جمعرات 28 دسمبر کو افغان دارالحکومت کابل میں شیعہ کلچرل سینٹر پر کیے گئے خودکش حملے میں بھی ایک صحافی کی موت ہوئی ہے لیکن اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Mexiko Edwin Rivera Paz Journalist ermordet (imago/Agencia EFE/A. Cejax)

سن 2017 میں سب سے زیادہ صحافی میکسیکو میں ہلاک ہوئے ہیں

رپورٹ کے مطابق سن 2017 کے دوران 81 صحافیوں کی ہلاکت گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والی سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار جرنلسٹس کے صدر فلپ لیروتھ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن اِس طبقے کو اب بھی پرتشدد صورت حال کا سامنا ہے۔

’کِل رپورٹ‘ کے مطابق سب سے زیادہ صحافی یعنی تیرہ میکسیکو میں مارے گئے اور ان کی ہلاکت کے پس پردہ وہاں کی ڈرگز مافیا کو خیال کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد گیارہ ہے۔ اس طرح میکسیکو کے بعد افغانستان صحافیوں کے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں دس اور بھارت میں چھ صحافیوں کو اپنی زندگی ہارنا پڑی۔ فلپائن اور پاکستان میں چار چار صحافیوں کو مختلف واقعات میں ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ افریقی ممالک نائجیریا اور صومالیہ کے علاوہ لاطینی لامریکی ملک ہنڈوراس میں تین تین صحافی پرتشدد واقعات میں مارے گئے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار