سندھ: پیپلز پارٹی کو گھیرنے کی کوشش اور اقتدار کی رسہ کشی | دستک | DW | 03.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

سندھ: پیپلز پارٹی کو گھیرنے کی کوشش اور اقتدار کی رسہ کشی

مقتدر حلقوں کو یہ احساس شدت سے ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی، جب تک پیپلز پارٹی کے قلعے کے اندر سے نقب نہ لگائی جائے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت کے زیادہ تر عہدیدار خصوصاﹰ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ ’کرپشن میں ملوث‘ ہیں لہذا سندھ حکومت کو بھی جلد از جلد فارغ کر کے تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ملا کر نئی حکومت تشکیل دی جائے۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پیپلز پارٹی متحد ہے کیونکہ سندھ حکومت کی تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر بھی مطلوبہ 86 نشستیں پوری نہیں کرتیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی حکومت 99 ممبران کے مضبوط کاندھوں پر کھڑی ہے لہذا حکومت کمزور ہو گی تو ہی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کو بھی توڑا جا سکے گا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اور قائم علی شاہ کابینہ میں وزیر بلدیات رہنے والے اویس مظفر عرف ٹپی کی گزشتہ روز دبئی سے انٹر پول کے ہاتھوں گرفتاری کی افواہ نے چند لمحوں میں ہی ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی تھی، یہ خبر دراصل کسی بڑی گرفتاری کی صورت میں ردعمل جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیس تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں نیوز کانفرنس کر کے اویس مظفر کی گرفتاری کی خبر کو جھوٹا قرار دیا تاہم یہ بھی بتا دیا کہ ان کا دو سال سے ٹپی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ بلاول نے ٹپی کی گرفتاری کی خبر کی تردید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے یہ خبر جان بوجھ کر چلوائی گئی تھی اور ان کے مطابق اسی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

Rafat Saeed Reporter in Pakistan (Privat)

رفعت سعید

آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کے مینیجر سید مظفر حسین کے بیٹے اویس مظفر عرف ٹپی کو زرداری خاندان میں گھر کے فرد کی حیثیت حاصل ہے اور بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کی رسائی براہ راست وزیر اعظم ہاؤس تک تھی۔ سن  2013ء  کے انتخابات میں اویس مظفر نے ٹھٹھہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور کامیاب ہو کر سندھ حکومت کے وزیر بلدیات کا منصب سنبھالا۔

اس وقت کے حکومتی عہدیدار وزیر اعلیٰ سے کام کروانے کے لیے بھی اویس مظفر سے رابطہ کیا کرتے تھے کیونکہ اویس مظفر کی حیثیٹ ’ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ‘ سندھ کی تھی۔ اسی دور میں کراچی سمیت سندھ بھر میں زمینوں کی جعلی الاٹمنٹس، شوگر ملز پر قبضے، منی لانڈرنگ اور دیگر معاملات سامنے آنا شروع ہوئے جبکہ کئی صحافتی تنظیموں اور متعدد نامور صحافیوں سے بھی ٹپی کے براہ راست روابط تھے اور ایک قیمتی زمین کا ٹکڑا ٹپی نے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے ایک صحافتی تنظیم کے ایک عہدیدار کے نام بھی کرایا تھا۔ قائم علی شاہ کے خلاف نیب نے اسی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا مقدمہ قائم کیا ہے۔

مگر اویس مظفر کی آصف علی زرداری سے اس وقت دوریاں بڑھیں، جب انہوں نے اپنی پسند سے ایک ماڈل گرل سے شادی کا ارادہ کیا۔ ٹپی نے آصف زرداری کی مخالفت مول لی اور سب کچھ چھوڑ کر دبئی جا بسے، جہاں شادی کے بعد وہ ایک سپر اسٹور چلا رہے ہیں۔ مگر ٹپی کا بیرون ملک جانا بھی بڑی مشکل سے ہوا کیونکہ اس وقت چودھری نثار وزیر داخلہ تھے اور کرپشن کے الزامات کے باعث ٹپی کے ستارے گردش میں آچکے تھے۔ ایئرپورٹ پر انہیں روک لیا گیا، جس پر اویس مظفر نے بھائی کے لندن میں انتقال اور میت وصولی کے لیے بیرون ملک جانے کا بتایا تو انہیں سفر کی اجازت ملی جبکہ یہ تمام قصہ بھی صرف ایک مفروضہ تھا، جس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔

پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاﹰ سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر کڑا وقت ہے، ملک کے مقتدر ادارے نواز شریف کے بعد اب آصف علی زرداری کے تعاقب میں ہیں جبکہ نیب منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی گزشتہ ہفتے گھوٹکی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھی اعلان کر دیا ہے کہ اب ان کی پوری توجہ سندھ پر ہے۔ اس جلسے کے لیے انہوں نے اسٹبلشمنٹ کے قریب ترین سمجھے جانے والے مہر قبیلہ گھوٹکی کا انتخاب کیا۔ لیکن اگر عمران خان پیپلز پارٹی کی حکومت کو فارغ کر کے تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے تو انہیں کئی نئی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کی مدت بھی آئندہ برس جون میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا باقی ماندہ 15 ماہ میں ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر نے کی کوشش کریں گے۔ اگر ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ہاتھ سے بلدیاتی ادارے نکل گئے تو پھر شہر میں ایم کیو ایم قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔