’سلامتی کونسل کی ٹیم افغانستان کا دورہ کرے گی‘ | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سلامتی کونسل کی ٹیم افغانستان کا دورہ کرے گی‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل افغانستان میں ایک خصوصی ٹیم روانہ کرنے پر غور کر رہی ہے، جو اس ملک کی صورتحال کا جائزہ لی گی۔ بتایا گیا ہے کہ یوں افغانستان میں قیام امن کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ میں قزاقستان کے سفیر کائرات عمروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل افغانستان کی موجودہ صورتحال جاننے کی خاطر ایک خصوصی ٹیم وہاں روانہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ ٹیم اس وسطی ایشیائی ملک کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کرے گی۔ عمروف کے مطابق اس رپورٹ سے عالمی برداری کو افغانستان کے لیے اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

کابل میں داعش امریکی اور افغان فورسز کی ’ناک کے عین نیچے‘

افغانستان نے بھارت کے لیے دوسری فضائی راہ داری کھول دی

چین، پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ مذاکرات

ویڈیو دیکھیے 02:29
Now live
02:29 منٹ

پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب میں تیزی

جمعرات کے دن امریکی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممالک کو افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ایک بریفنگ بھی دی۔ حالیہ عرصے میں کئی اعلیٰ عالمی سفارتکاروں نے افغانستان کا دورہ کیا ہے، جن میں گزشتہ ماہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کا دورہ بھی شامل ہے۔

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ملک قزاقستان کے سفیر برائے اقوام متحدہ کائرات عمروف کے مطابق یہ ضروری ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی تازہ صورتحال کے بارے میں ایک جامع معلوماتی رپورٹ مرتب کی جائے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں افغانستان کی صورتحال کا علم ہو۔ ہم افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی ٹیم افغانستان کا دورہ کب کرے گی۔ اگر ایسی کوئی ٹیم اس جنگ زدہ ملک کا دورہ کرتی ہے تو یہ گزشتہ سات برسوں بعد سلامتی کونسل کی کسی ٹیم کا پہلا دورہ افغانستان ہو گا۔ عمروف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور پائیدار ترقی کی خاطر زیادہ جامع اور مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان کے لیے اپنی انتظامیہ کی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت افغانستان میں اضافی امریکی فوجی تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافی امریکی دستے افغانستان میں مقامی فوجیوں کو تربیت اور مشاورت فراہم کریں گے۔

قزاق صدر نور سلطان نظر بایف آئندہ ہفتے اپنے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ان دونوں رہنماؤں کی بات چیت میں افغانستان ایک اہم ایجنڈا ہو گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic