سفید مونچھوں والے رویے | دستک | DW | 15.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

سفید مونچھوں والے رویے

ایک صاحب لطیفے بلکہ برمحل لطیفے سنانے کے لیے بہت مشہور تھے۔ کوئی بھی۔ کیسا بھی معاملہ ہو، انہیں اس سے متعلق لطیفہ یاد آ جایا کرتا تھا۔ ان کا لطیفوں کا ذخیرہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر سے کچھ مختلف حالت میں تھا۔

اس لیے وہ خود کوئی گھسا پٹا لطیفہ سناتے نہیں تھے بلکہ ایسا کرنے والے کو ٹوک بھی دیا کرتے تھے۔ ان کے سامنے کسی نے ایک بار کوئی پرانا لطیفہ شروع کیا اور انہوں نے حسب عادت ٹوک دیا تو سنانے والے نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تو یہ لطیفہ چند دن قبل پہلی بار سنا ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ آپ نے ضرور پہلی بار سنا ہو گا لیکن یہ لطیفہ اِتنا پرانا ہے کہ اس کی مونچھیں بھی سفید ہو گئی ہیں۔

سفید مونچھوں والا ایک ایسا ہی لطیفہ، جو ہم نے کوئی بیس سال پہلے لڑکپن میں سنا تھا کچھ یوں تھا، ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا کہ یہ لڑکے جب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو لڑکیوں کے بارے کیا باتیں کرتے ہیں۔ دوسری نے جواب دیا کہ باتیں کیا کرنی ہیں وہی، جو لڑکیاں لڑکوں کے بارے کرتی ہیں۔ اس پر پہلی نے کہا آئے ہائے کس قدر بیہودہ ہوتے ہیں یہ لڑکے۔
ان لطیفہ گو حضرت کی طرح میں اس لطیفے کی عمر کی تصدیق تو نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ لمز کے سابقہ اور موجودہ اسٹوڈنٹس کے متنازعہ فیس بک گروپ کی خبر پڑھ کر مجھے اس لطیفے کے علاوہ کچھ ایسی خالص مردانہ محفلیں یاد آ گئیں، جو اپنے کانٹینٹ میں اس فیس بک پیج سے بہت مختلف نہیں تھیں۔

Salman Haideris (Privat)

سلمان حیدر


خالص زنانہ محفلیں تو کیونکہ ہمارے موجود ہونے سے خالص زنانہ نہیں رہ پاتیں، سو ان کے بارے کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر فیس بک کے اس صفحے پر لڑکیوں کے بارے جنسی گفتگو جنسی لطیفے اور ان سے بڑھ کر نا آسودہ جنسی خواہشات کا بیان تھا تو ایسی محفلیں تو ہر دوسری یونیورسٹی کی کینیٹین اور بوائز ہوسٹل کے چنیدہ کمروں میں ہر شام لگتی ہیں۔ جہاں جنسیات کے محمود غزنوی گھوڑے کی ننگی پشت پر سوار ننگی تلوار ہاتھ میں لیے یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ پر اپنے حملہ آور ہونے کے برہنہ قصے اپنے درباریوں کو خود سنا رہے ہوتے ہیں۔ اور صرف یونیورسٹی کیا ہر محلے میں ایک نا ایک ایسا سفید مونچھوں والا ذہنی نابالغ دستیاب ہوتا ہے، جو زمانہ قبل از انٹرنیٹ کے نیٹ کیفے کا کام دیتا ہے۔
ایسی محفل میں اول تو کوئی لڑکیوں کے بارے اس انداز کی گفتگو سے روکے تو اس کی مردانگی مشکوک ہو جاتی ہے اور اگر کوئی اپنی مردانگی خطرے میں ڈالنے پر تیار ہو تو اس سے پہلا سوال یہ کیا جاتا ہے۔ کیوں بھین لگدی اے تیری؟

 اس سوال کے پیچھے مفروضہ یہ ہے کہ آپ کیونکہ اس لڑکی کے بارے جنسی انداز میں نہ سوچنے پر مجبور ہیں اس لیے باقیوں کو اس کام سے روک رہے ہیں۔ اس سوال کا مروجہ جواب اس سوال اور اس کے پیچھے کار فرما مفروضے سے زیادہ بیہودہ نہ ہوتا تو میں ضرور لکھ دیتا لیکن وہ سوال، جو ان تمام سوالوں سے بڑھ کر ضروری اور اہم ہے وہ یہ کہ کسی لڑکی کی عزت کرنے کا فیصلہ ہم کب تک اس کی قمیص یا اس کے بھائی کی اونچائی دیکھ کر کریں گے؟ ہمارے سفید مونچھوں والے رویے بدلنے کا وقت کب آئے گا؟