سعودی عرب کے صحرا میں انسانی قدموں کے ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے نشانات کی دریافت | سائنس اور ماحول | DW | 18.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

سعودی عرب کے صحرا میں انسانی قدموں کے ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے نشانات کی دریافت

سعودی عرب میں ماہرین کو ایک صحرا سے انسانی قدموں کے ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے نشانات ملے ہیں۔ یہ سائنسی انکشاف زمین پر لاکھوں سال پہلے انسانی نقل و حرکت کے بارے میں بہت سے نئے حقائق سامنے لا سکتا ہے۔

یہ تفصیلات ایک ایسے نئی سائنسی تحقیق کا حصہ ہیں، جس کے نتائج معروف سائنسی تحقیقی جریدے 'سائنس ایڈوانسز‘ میں جمعرات سترہ ستمبر کو شائع ہوئے۔ ارضیاتی اور ماحولیاتی تاریخ کے ماہر سائنسدانوں نے انسانی قدموں کے جن انتہائی قدیم نشانات کی دریافت کی تصدیق کی ہے، ان کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ تقریباﹰ ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے ہیں۔

نشانات صحرائے نفود میں ملے

قدموں کے ان قدیمی نشانات کو ایک ایسے خطہ زمین پر دریافت کیا گیا، جو موجودہ سعودی عرب کے شمال میں صحرائے نفود کا علاقہ کہلاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ان انتہائی قدیم شواہد کے سائنسی مطالعے سے اب تک یہ اندازہ لگایا جا چکا ہے کہ یہ انسانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ایک ایسے سفر کی نشاندہی کرتے ہیں، جو اپنے جانوروں کے ساتھ پانی کے کسی ذریعے مثلاﹰ چھوٹی سے جھیل وغیرہ کے پاس رک بھی جایا کرتا تھا۔

Saudia-Arabien historische menschliche Fußabdrücke entdeckt

سعودی عرب کا صحرائے نفود ملک کے شمال میں واقع ہے

سائنسی تحقیقی جریدے Science Advances میں شائع ہونے والے ان نتائج کے مطابق آج سے تقریباﹰ سوا لاکھ سال قبل زمین، خاص طور پر موجودہ سعوی عرب کے اس علاقے میں انسان ایسے سفر کرتے تھے کہ ان کے ہمراہ اونٹ، بھینسیں اور ایسے ہاتھی بھی ہوتے تھے، جو آج کل کے کسی بھی دوسرے جانور کے مقابلے میں کہیں بڑے ہوتے تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق ممکن ہے کہ تب انسان بڑے بڑے ممالیہ جانوروں کا شکار بھی کرتا تھا لیکن تب وہ کسی بھی جگہ پر زیادہ دیر تک قیام نہیں کرتا تھا اس کے کسی طویل سفر کے دوران کسی بھی جگہ پڑاؤ کے لیے اہم عوامل میں سے نمایاں ترین کسی جگہ پر پانی کی موجودگی ہوتی تھی۔

نشانات انسانی قدموں کے بھی اور جانوروں کے بھی

اس سائنسی تحقیق کے شریک مصنف رچرڈ کلارک ولسن نے بتایا، ''صحرائے نفود سے صرف انسانی قدموں کے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے پیروں کے نشانات بھی ملے ہیں اور ان کے آئندہ مطالعے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مزید مدد ملے گی کہ موجودہ نسل انسانی کے اجداد لاکھوں سال پہلے جب افریقہ سے نکل کر دنیا کے دیگر حصوں تک پھیلے تھے، تو اپنے اس سفر کے لیے انہوں نے کون کون سے راستے اختیار کیے تھے۔‘‘

Saudia-Arabien historische menschliche Fußabdrücke entdeckt

قدموں، پیروں اور کھروں کے ان نشانات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان میں سے کم از کم سات نشانات انسانی قدموں کے نشان ہیں

آج کے جزیرہ نما عرب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایسے وسیع اور بنجر صحراؤں سے بھرا پڑا ہے، جو زمانہ قدیم میں انسانی آبادی اور اس کی طرف سے شکار کیے جانے والے جانوروں کے لیے انتہائی ناموافق تھے۔

اس بارے میں رچرڈ کلارک ولسن کہتے ہیں، ''ماضی میں کچھ ادوار ایسے بھی تھے کہ جزیرہ نما عرب کے اندرونی حصے میں بہت سے صحرا وسیع سرسبز علاقوں سے بھرے ہوئے خطے تھے اور وہاں مستقل طور پر تازہ پانی کی کئی جھیلیں اور دریا بھی تھے۔‘‘

الآثار جھیل کی باقیات

اس رپورٹ کے بنیادی مصنف میتھیو سٹوارٹ ہیں، جن کا تعلق جرمنی کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے کیمیائی ماحولیات سے ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کہا، ''انسانی قدموں کے یہ انتہائی قدیم نشانات میں نے 2017ء میں اپنی پی ایچ ڈی کے لیے تحقیق کے عمل میں فیلڈ ورک کے دوران دریافت کیے تھے۔‘‘

میتھیو سٹوارٹ کے بقول سعودی عرب کے صحرائے نفود میں اس نشانات کی دریافت اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ عربی زبان میں 'الآثار' کہلانے والی ماضی کی ایک قدیم اور خشک ہو چکی جھیل کی جگہ پر ارضیاتی تبدیلیوں اور قدرتی طریقے سے ریت اور مٹی ہٹ جانے کے بعد یہ نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔‘‘

سینکڑوں نشانات میں سے کئی انسانوں کے

انسانی قدموں کے ان انتہائی قدیم نشانات کی عمر کے تعین کے لیے ماہرین نے ایک ایسا طریقہ استعمال کیا، جو optical stimulated luminescence کہلاتا ہے۔ مجموعی طور پر قدموں، پیروں اور کھروں کے ان نشانات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان میں سے کم از کم سات نشانات تو یقینی طور پر انسانی قدموں کے نشان ہیں۔

ان میں سے بھی چار نشانات ایسے ہیں، جن کا سائز، سمت اور ایک دوسرے سے فاصلہ دیکھا جائے، تو یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ دو یا تین ایسے انسانوں کے قدموں کے نشانات ہیں، جو آج سے ایک لاکھ بیس ہزار سال قبل وہاں مل کر اور اپنے جانوروں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

م م /  ک م (اے ایف پی)

DW.COM