سعودی ایرانی کشیدگی میں کمی کے لیے عمران خان تہران میں | حالات حاضرہ | DW | 13.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ایرانی کشیدگی میں کمی کے لیے عمران خان تہران میں

سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اتوار تیرہ اکتوبر کو تہران روانہ ہو گئے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد ’خطے میں امن اور سلامتی‘ ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ نیو یارک میں بھی ایرانی صدر حسن روحانی سے ایک ملاقات کی تھی

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ نیو یارک میں بھی ایرانی صدر حسن روحانی سے ایک ملاقات کی تھی

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق عمران خان کے اس دورے کا مقصد ایرانی دارالحکومت میں ملکی قیادت کے ساتھ اس مقصد کے تحت بات چیت کرنا ہے کہ دو بڑے اور اہم لیکن حریف مسلم ممالک کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے مابین شدید کچھاؤ میں کمی لائی جائے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق تہران میں پاکستانی سربراہ حکومت کی ایرانی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران سب سے زیادہ توجہ خطے میں امن اور سلامتی پر دی جائے گی۔

عمران خان، جن کا ایران کا یہ دورہ ان کا پاکستان کے اس مسلم ہمسایہ ملک کا اس سال کیا جانے والا دوسرا دورہ ہے، تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ملکی صدر حسن روحانی دونوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

Iran Ali Khamenei

عمران خان اس دورے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملیں گے

قبل ازیں پاکستانی وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی ایرانی صدر حسن روحانی سے ایک ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ معاملات، خطے میں سلامتی کی صورت حال اور ایران اور سعودی عرب کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی تھی۔

ایران کے بعد سعودی عرب کا بھی دورہ

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران میں ایرانی رہنماؤں سے اپنی بات چیت کے بعد پاکستانی وزیر اعظم سعودی دارالحکومت ریاض بھی جائیں گے، جہاں وہ سعودی لیڈروں سے ملیں گے۔

عمران خان کے اس دورے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان یوں تو روایتی طور پر سعودی عرب کا ایک دیرینہ حلیف ملک ہے لیکن تہران اور ریاض کے مابین حالیہ ہفتوں میں بہت شدید ہو جانے والی کشیدگی کے دوران اسلام آباد نے سفارتی سطح پر اپنی ہمدردیوں کو زیادہ سے زیادہ حد تک متوازن اور غیر جانبدارانہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ایران سعودی عرب سے مکالمت کے لیے تیار

پاکستانی وزیر اعظم کے آج اتوار کے روز کیے جانے والے دروہ تہران سے قبل کل ہفتہ بارہ اکتوبر کو ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چاہے درمیان میں کوئی ثالث اپنی کوششیں کرے یا نہ کرے، لیکن تہران ریاض حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی سے جب ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں، تو موسوی نے کہا، ''میں کسی ثالثی سے آگاہ نہیں ہوں۔‘‘

موسوی کے مطابق، ''ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ کسی ثالث کے ساتھ یا اس کے بغیر ہی، ایران سعودی عرب سمیت خطے میں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس سوچ کے تحت بات چیت کے لیے تیار ہے کہ اگر کسی بھی طرح کی کوئی غلط فہمیاں ہیں، تو ان کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘

م م / ع ت (اے پی)

DW.COM