سری لنکن شہری کے قتل میں میرا کتنا ہاتھ ہے؟ | دستک | DW | 07.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کالم

سری لنکن شہری کے قتل میں میرا کتنا ہاتھ ہے؟

ہماری ایک روشن تاریخ ہے۔ اس ملک کی جب بنیاد پڑ رہی تھی تو مستقبل کا ایک خاکہ بھی ساتھ ساتھ کھنچ رہا تھا۔ اس خاکے میں ایک مقام آتا ہے، جہاں عطااللہ شاہ بخاری چیختے اور دھاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

عطااللہ شاہ بخاری دیوبند مسلک کا ایک قابلِ فخر کردار ہیں مگر سچ یہ ہے کہ زندگی اشتعال دلاتے ہوئے اور دستار کھینچتے ہوئے گزری۔ مرحوم کی ہی تقریر تھی، جس سے پھوٹنے والی چنگاری نے غازی علم الدین کے خاکستر میں شعلہ بھڑکایا تھا۔ فرمایا، حضرتِ عائشہ سامنے کھڑی ہیں اور مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ تم ابھی تک زندہ کیسے ہو؟ غریب مزدور نے خنجر کو دھار لگائی اور راج پال کی جان لے کر جیل پہنچ گیا۔ علم الدین خود بھی جان سے گزر گیا اور بخاری صاحب زندہ رہے۔ 

یہ خبر زمانے میں پھیلی تو علامہ اقبال خوشی سے جھوم اٹھے۔ وہ قانون دان بھی تھے اور مسلمانوں کو سیاست کے آداب بھی سکھاتے تھے۔ علم الدین کے اقدام کو مگر بالکل جائز سمجھتے تھے۔ اس بات پر دکھ کا اظہار بھی کرتے تھے کہ یہ کام میرے ہاتھوں کیوں نہ ہوا؟ حسرت بھرے الفاظ میں ایک بار انہوں نے فرمایا، ''اسی ویکھدے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یعنی ہم دیکھتے ہی رہ گئے اور ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آسودہ حال ہستیاں دیکھتی رہ جاتی ہیں اور مشکل اوقات والے مزدور بازی لے جاتے ہیں۔

غازی علم الدین کو جیل ہوئی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی خدمات پیش کیں۔ انہوں نے غازی علم الدین کو بچنے کے سارے راستے سمجھائے مگر ترکھانوں کا لڑکا سخت ثابت ہوا۔ وہ قائد کی بتائی ہوئی کسی ایک بھی بات پر نہیں پگھلا۔ سب دیکھتے رہ گئے اور غازی علم الدین کو پھانسی ہو گئی۔ پھانسی ہوئی تو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے سلمان تاثیر کے والد ایم ڈی تاثیر نے خصوصی چارپائی دی اور کچھ مول دان کیے۔ فرماتے تھے، ہمارے دامن میں اور تو کوئی نیکی نہیں ہے، شاید یہی چارپائی روز حشر کام آ جائے۔

قرار داد مقاصد سے ہوتے ہوئے ہماری سیاسی تاریخ میں ایک موڑ وہ آتا ہے، جب جنرل ضیا الحق جوتوں سمیت اقتدار کی پالکی پر چڑھ جاتے ہیں۔ اسلام کی سب سے زیادہ خدمت اسی دور میں ہوئی۔ جنرل ضیاء نے ریفرنڈم کروایا تو لوگوں سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ کیا آپ جنرل ضیاء کو ملک کا صدر دیکھنا چاہتے ہیں؟ سوال تھا، کیا آپ ملک میں نظام مصطفیٰ کا نفاذ چاہتے ہیں؟ گنتی کے جو دس لوگ نکلے تھے، ان میں سے نو کا جواب ہاں میں آیا۔ اس ہاں کا مفہوم یہ نکالا گیا کہ لوگ دراصل جنرل ضیاء کو ملک کا حاکم دیکھنا چاہتے ہیں۔

مذہب کی گستاخی اگر واقعی کوئی چیز ہے، تو یہ اُس دن ہوئی تھی، جب جنرل ضیاء کا مطلب اسلام اور اسلام کا مطلب جنرل ضیاء بتایا گیا تھا۔ اس مجرمانہ مطلب کی ترویج میں تمام مسالک کے علمائے کرام برابر کے شریک تھے۔ اس مطلب کا عملی اظہار آگے چل کر زندگی کے ہر شعبے میں ہوا۔ ہر وہ دانشور، سیاست دان، استاد اور شاعر، جو جنرل ضیاء کا مخالف تھا، اسلام کا دشمن کہلایا۔ جو لوگ راگ درباری میں ظلِ سبحانی کے لیے انترے اٹھاتے رہے، وہ ہیرو، پیر، قاضی، مشائخ اور صوفی کہلائے۔

جنرل ضیاء کو اسلام باور کرانے والوں میں ہمارے احسن اقبال کی والدہ آپا نثار فاطمہ پیش پیش تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کو پہلی بار توہینِ اسلام کے تختے پہ کھینچنے والی آپا ہی تھیں۔ آپا نے ہی مخالفین کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے پارلیمان میں توہین رسالت کا بل پیش کیا تھا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی فقہ حنفی کی پیروکار تھی اور یہ بِل فقہ حنفی کے بالکل برعکس تھا۔ فقہ حنفی میں ہلکی سی ایک گنجائش موجود تھی اور جنرل ضیاء مخالفین کو اتنی سی گنجائش دینے کے بھی روا دار نہ تھے۔ 

مولانا عطااللہ شاہ بخاری سے لے کر اب تک جو چلا آ رہا ہے، وہ بیانیہ ہے۔ آپا نثار فاطمہ کے بل سے اب تک، جو چلا آرہا ہے، وہ قانون ہے۔ قانون اور بیانیہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلتے ہیں۔ قانون اور بیانیے کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ توہینِ مذہب کا قانون دراصل لاقانونیت کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی ایک مشق تھی۔ طاقت کے غیر جمہوری مراکز کے مفادات کا تحفظ غیر آئینی اور غیر قانونی مشق سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ یہ مشق ایک شہری سے تقاضا کرتی ہے کہ آپ کو کسی شہری، کسی استاد یا مصنف کی کوئی بات گستاخی لگے تو انتظار مت کیا کرو، خود سے فیتہ اٹھایا کرو اور گردن کا ناپ لے لیا کرو۔

اب کچھ سوالات ہو جائیں!

ممتاز قادری کو پہلی پیشی پر عدالت لایا گیا تو وکلاء کا ایک ہجوم استقبال کے لیے باہر نکل آیا۔ ایک سابق جج اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آگے بڑھ کر ممتاز کو ماتھے پر بوسہ دے دیا۔ سابق جج چوہدری نذیر صاحب نے ممتاز قادری کیس میں کہا، ''سلمان تاثیر کو قتل کر کے ممتاز قادری نے دراصل وہ کام کیا، جو عدالت کو کرنا چاہیے تھا، اس لیے ممتاز قادری کو سزا نہیں دی جا سکتی۔‘‘ اسی کیس پر بات کرتے ہوئے سابق جج مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اگرچہ ممتاز قادری کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا مگر چونکہ یہ سب اس نے سرکارِ دو عالم کی محبت میں کیا، اس لیے یقین رکھنا چاہیے کہ خدا اس کو اپنے کیے کے بدلے میں جزا دے گا۔ قائد اور اقبال کے فرامین کی روشنی میں بتائیے کہ یہ وکلا اور جج صاحبان کہاں غلط ہیں؟ 

عمران حنیف خوشاب میں بینک مینیجر تھا۔ وہ ایک معلوم خوش عقیدہ سُنی حنفی مسلمان تھا۔ اُس نے ایک بات کہی، جو سکیورٹی گارڈ کی نظر میں گستاخی ٹھہری۔ سکیورٹی گارڈ ناخواندہ سہی مگر سمجھ بوجھ میں مولانا فضل الرحمان سے کم نہیں تھا۔ اس نے سوچا، یہ معاملہ اگر عدالت کے سپرد کیا جائے تو ثبوت وشواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔ فیصلہ تو وہ ہوتا ہے، جو ترکھان کا بچہ کرتا ہے یا سکیورٹی گارڈ کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے تین گولیاں مینیجر کے سینے میں اتاریں اور لبیک کے نعروں میں باہر نکل آیا۔ عطااللہ شاہ بخاری کے کردار کی روشنی میں بتائیے کہ عمران حنیف کو قتل کرنے والا یہ سکیورٹی گارڈ کیسے غلط ہے؟

سلمان تاثیر نے توہینِ مذہب کے قانون پر رائے دی اور مسلمانوں کی داڑھ گرم ہو گئی۔ مفتی حنیف قریشی نے وہی بخاری صاحب والی دستار پٹخ تقریر کی اور ممتاز قادری نے میگزین لوڈ کر لیا۔ نتیجہ یہ کہ سلمان تاثیر بیچ بازار میں بہت بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ ایم ڈی تاثیر کی چارپائی سامنے رکھ کر بتائیے کہ ان کے بیٹے کو قتل کرنے والا شخص کیسے غلط ہے؟

سال 2018 میں ہونے والے انتخابات میں ریاستی اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے توہینِ رسالت کا سکہ بھی خوب چلا۔ وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ یہ وہی ضیاء والا سکہ تھا۔ یہی سکہ سینے پر سجائے ایک شخص سر تن سے جدا کا نعرہ لگاتا ہوا جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور احسن اقبال پر فائرنگ کر دی۔ آپا نثار فاطمہ کی سیاسی جدو جہد کی روشنی میں سمجھائیے کہ ان کے بیٹے احسن اقبال پر فائرنگ کرنے والا شخص کتنا غلط تھا؟

چنیوٹ میں چھوٹے سے ایک گاؤں کی مسجد میں تبلیغی جماعت ٹھہری ہوئی تھی۔ ان کی تعلیمات سن کر حافظ اکرام کو لگا کہ یہ گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور دو تبلیغیوں کو نیند کی حالت میں قتل کر دیا۔ حافظ اکرام نے یہ قتل اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے سرشار ہو کر کیا تھا۔ حضرت تقی عثمانی صاحب کی رائے کی روشنی میں جائزہ لے کر بتایا جائے کہ یہ قاتل کہاں اور کیسے غلط ہے؟

ان سارے سوالات اور واقعات کی روشنی میں اب یہ بھی بتایا جائے کہ سری لنکن شہری کو قتل کرنے والے لوگ کیسے غلط ہیں؟ رک جائیے، آپ جواب مت دیجیے۔ یہ سوال میں نے اپنے آپ سے پوچھا ہے۔ جواب معلوم ہے، بس خون آلود کتاب میں صفحوں کی ترتیب ٹھیک کرنا چاہ رہا ہوں۔ سری لنکن شہری کا قتل اس کتاب کی ترتیب میں پہلے نہیں آتا۔ اس قتل سے بہت پہلے ایک بیانیہ اور ایک تاریخ چلی آتی ہے۔ الٹے پاؤں چل کر مجھے پہلے صفحے پر پہنچنا ہے اور خود سے سوال کرنا ہے کہ کیا میں اس بیانیے اور تاریخ کی مذمت پہلے صفحے سے شروع کر سکتا ہوں؟ اگر ہاں، تو سری لنکن شہری کے قاتل میری نظر میں واقعی مجرم ہیں۔ اگر نہیں، تو سری لنکن شہری پر سنگ باری کرنے والے ہاتھوں میں ایک ہاتھ میرا بھی تھا۔ آئندہ بھی ہو گا!