سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب، کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع | کھیل | DW | 28.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب، کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع

سفارتی بائیکاٹ کی مہم کے باوجود کئی عالمی رہنما سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ کھیل رواں برس فروری میں منعقد ہوں گے۔

چینی دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس کا اغاز رواں برس چار فروری سے ہو گا۔ سفارتی بائیکاٹ کی مہم کے باوجود اولمپکس کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں کئی عالی لیڈروں کی شرکت کا امکان ہے۔

امریکا کی جانب سے چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں ونٹر اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ تاہم کے باوجود اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں کئی سربراہانِ حکومت و مملکت کی شرکت متوقع ہے۔

سرمائی اولمپکس کا امریکی سفارتی بائیکاٹ تعاون کو نقصان دے گا، چین

ونٹر اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں خاص طور پر اُن ملکوں کے لیڈران کے شریک ہونے کا قوی امکان ہے ، جن کے چین کے ساتھ مستحکم اقتصادی روابط ہیں۔

China Peking | Olympische Winterspiele

بیجنگ میں رواں برس کھیلے جانے والے سرمائی اولمپکس کی ریہرسل میں شریک ایک ملک کے آفیشلز

غیر ملکی لیڈروں کی افتتاحی تقریب میں شرکت

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن پہلے عالمی لیڈر ہیں، جنہوں نے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں کریملن حکومت کے طاقتور سربراہ نے چینی صدر شی جن پنگ کو 'ڈیئر فرینڈ‘ قرار دیا ہے۔ چینی و روسی لیڈران کورونا وبا کی وجہ سے براہ راست ایک دوسرے سے اب تک ملاقات کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

پاکستان اور چین کے بھی گہرے اقتصادی و معاشرتی روابط ہیں اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی چینی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت چین کا ایک اہم اسٹریٹیجک پارٹنر خیال کیا جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان اقتصادی منصوبہ سی پیک موجود ہے اور اس کے تحت پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

China Vorbereitung Winterspiele 2022 in Peking

بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں کئی ممالک کے لیڈران کی شرکت متوقع ہے

منگولیا کے وزیر اعظم اپنے پہلے چینی دورے کے دوران سرمائی اولمپکس کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ جنوبی کوریا کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔ جنوبی کوریا کو امریکا کا اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

کیا امریکا بیجنگ اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کرے گا؟

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی شرکت کا بھی امکان ہے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیڈران کی شرکت بھی ممکن ہے۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستوں قزاقستان، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور کرغیزستان کے صدور کے شریک ہونے کے امکانات ہیں۔

یورپ سے پولینڈ کے صدر کی شرکت متوقع ہے۔ اسی طرح سربیا کے صدر الیکزانڈر وچچ کے علاوہ لکسمبرگ، موناکو، بوسنیا ہیرزیگووینا کے حکومتی نمائندے بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔

بائیکاٹ کی امریکی مہم

امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور ڈنمارک نے سرمائی اولمپکس میں چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی طور پر سفارتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Protest against the China's treatment towards the ethnic Uyghur people and calling for a boycott of the 2022 BdT I BdTD I Proteste zur Boykottierung der Winter Olympiade in China

نیجنگ منعقدہ سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کی مہم کے شرکاء ایک احتجاج کے دوران

ان ممالک کے ایتھلیٹس تو موجود ہوں گے لیکن حکومتی اہلکار شرکت نہیں کریں گے۔ جاپان بھی اپنے آفیشیلز نہیں بھیجے گا۔ نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے چینی پابندیوں کے تناظر میں اُن کے آفیشلز سرمائی اولمپکس میں شرکت نہیں کریں گے۔

سرمائی اولمپکس: جرمنی میڈل ٹیبل پر سرفہرست

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ تین اولمپک گیمز کے لیے مشرقی ایشیائی ممالک کا انتخاب کیا گیا۔ ان میں سن 2018 میں جنوبی کوریا، سن 2020 میں جاپان کے بعد اور اب سن 2022 کے سرمائی اولمپکس چین میں منعقد ہو رہے ہیں۔

ع ح /ع ا (اے ایف پی)