سبین محمود کے قاتل کو موت کی سزا | حالات حاضرہ | DW | 12.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سبین محمود کے قاتل کو موت کی سزا

پاکستانی فوج کے سربراہ نے صفورا چورنگی پر بس حملے، صالح مسجد کراچی کے قریب بم دھماکے اور سبین محمود کے قتل میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، ’’پاکستانی فوج کے سربراہ نے آج پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ دہشت گرد کراچی میں اسماعیلی کمیونٹی پر حملے، کراچی کی صالح مسجد کےقریب بم حملے اورسماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث تھے۔‘‘

میڈیا پر جاری کردہ رپورٹس کے مطابق یہ پانچوں دہشت گرد القاعدہ کے فعال اراکین تھے۔ ملزمان کے بارے میں جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مجرم سعاد عزیز اور طاہر حسین کو دس الزامات جب کہ اسد الرحمان اور حافظ طاہر کو چار چار الزامات میں جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی گئی جب کہ محمد اظہر کو 5 الزامات ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 13 مئی سن 2015 میں ہونے والے صفورا بس حملے میں اسماعیلی کمیونٹی کی 18 خواتین سمیت کل 45 افراد ہلاک کیے گئے تھے۔ ’دا سیکنڈ فلور‘ کی ڈائریکٹر سبین محمود کو گزشتہ برس اپریل کے مہینے میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا۔ سبین اپنی والدہ کے ہمراہ شام 9 بجے دا سیکنڈ فلور میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کے بعد اپنے گھر جا رہی تھیں۔ سبین کی والدہ بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں تاہم اس حملے میں ان کی جان بچ گئی تھی۔

Pakistan Angriff auf Bus in Karachi

صفورا بس حملے میں اسماعیلی کمیونٹی کے افراد ہلاک کیے گئے تھے

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ان تمام دہشت گردوں کے کیسزز فوجی عدالتوں میں چلائے گئے تھے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر فوجی عدالتیں تشکیل دینے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات