زمینی درجہ حرارت بلند، کروڑوں انسان شدید گرمی سے متاثر | سائنس اور ماحول | DW | 16.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

زمینی درجہ حرارت بلند، کروڑوں انسان شدید گرمی سے متاثر

ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کے ایک ارب سے زائد باسیوں کو مسلسل بڑھتی گرمی کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں اقوام عالم سے کہا گیا ہے کہ وہ گرم ہوتے زمینی ماحول پر قابو پانے کے لیے مزید عملی اقدام کریں۔

Botswana: Angehörige des Basarwa-Volkes unter einem Baum (AP)

ایک نئی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بلند ہونے کی وجہ سے ایک ارب سے زائد افراد کو شدید حدت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے متاثر ہونے والے یہ لوگ پنکھے، ایئر کنڈیشنر اور ریفریجیٹر جیسی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ اس باعث ان لوگوں کو خوراک محفوظ رکھنے اور ادویات کو شدید گرمی سے بچانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق گرمی کی شدت سے متاثر ہونے والوں میں 1.1 ارب سے زائد پسماندہ افراد کا تعلق صرف براعظم ایشیا سے ہے۔ لاطینی امریکا کے دیہات کے 430 ملین اور کچی بستیوں میں 630 ملین افراد کو گرم ہوتے موسم کا سامنا ہے۔ دنیا کی کُل آبادی 7.6 ملین ہے۔

Deutschland Hochsommerliche Temperaturen in Berlin (Imago/R. Peters)

ماحولیاتی تبدیلیوں سے گرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

اس رپورٹ کو مرتب کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم نے کُل باون ملکوں میں سروے مکمل کیا ہے۔ ان ممالک میں سارک خطے کے ممالک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں چین، موزمبیق، سوڈان، نائجیریا، برازیل اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو بھی سروے میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان باون ملکوں کے غریب اور بنیادی سہولیات سے محروم طبقے کو راحت دینے کے لیے ’کولنگ‘ فراہم کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے موسمی حدت بڑھ رہی ہے، یہ سالانہ بنیاد پر سن 2030 اور 2050 کے درمیان معمول سے اڑتیس ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان کے شہر کراچی میں رواں برس مئی میں موسم گرما کی شدید لہر کی لپیٹ میں آ کر ساٹھ سے زائد افراد جان گنوا بیٹھے تھے اور اس کی وجہ درجہٴ حرارت کا غیر معمولی بلند ہونا تھا۔

یہ رپورٹ ایک غیرسرکاری تنظیم ’’سَسٹین ایبل انرجی فار آل‘‘ نے مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ کو جاری کیے جانے کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے بھی موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ پاور جنریٹرز کو زمین سے حاصل ہونے والے ایندھن سے صاف توانائی پر منتقل کیا جائے۔

DW.COM