ریڈ کارڈ دکھانے پر سابق قومی کپتان نے پٹائی کر دی، ریفری ہسپتال میں | کھیل | DW | 14.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

ریڈ کارڈ دکھانے پر سابق قومی کپتان نے پٹائی کر دی، ریفری ہسپتال میں

روسی دارالحکومت میں ہونے والے ایک فٹ بال میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر ایک فٹ بالر نے ریفری کی شدید پٹائی کر دی۔ کھلاڑی روس کی قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان شیروکوف تھے۔ ریفری کو کئی گھنٹے ہسپتال میں رہنا پڑا۔

WM 2014 Qualifikation Russland - Aserbaidschan (picture-alliance/dpa)

دو ہزار چودہ کے ورلڈ کپ کے لیے ایک کوالیفائنگ میچ میں آذربائیجان کے خلاف گول کرنے کے بعد لی گئی روسی کپتان شیروکوف کی ایک تصویر

یہ میچ ایک دوستانہ فٹ بال میچ تھا جو ماسکو میں اسی ہفتے کھیلا جا رہا تھا۔ کھیل کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ ریفری نے ایک مڈفیلڈ کھلاڑی کو شدید نوعیت کا فاؤل کرنے پر ریڈ کارڈ دکھا کر گراؤنڈ سے باہر جانے کے لیے کہہ دیا۔ یہ کھلاڑی رومان شیروکوف تھے، جو ماضی میں روس کی قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں۔

ریڈ کارڈ ملنے پر اس وقت انتالیس سالہ شیروکوف اتنے مشتعل ہو گئے کہ انہوں نے ہر قسم کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے ریفری کے منہ پر ایک زور دار مکہ جڑ دیا۔ پھر جب دھکا دے کر ریفری کو پہلے زمین پر گرایا اور اس کے سر پر پاؤں سے ایک زور دار کک بھی مار دی۔ یہ سب کچھ ایک میچ کے دوران ہوا، اور اس کی ویڈیو بھی بن گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد ریفری نِکیتا دانخنکوف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس جسمانی حملے کے بعد وہ کئی گھنٹے تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کس طرح ان کا منہ سوجا ہوا تھا اور ایک آنکھ پر نیل بھی پڑا ہوا تھا۔

انسٹاگرام پر بیان میں افسوس اور معذرت

اس فٹ بالر نے بعد میں انسٹاگرام پر اپنا ایک بیان بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ میچ کے دوران انتہائی نامناسب رویے کے مرتکب ہوئے اور ریفری نِکیتا دانخنکوف سے دلی افسوس کے ساتھ مافی مانگتے ہیں۔

روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس واقعے کی ریفری کے اہل خانہ نے ایک 'جسمانی حملے‘ کے طور پر ماسکو پولیس کا باقاعدہ شکایت بھی کر دی ہے اور پولیس بھی اس واقعے کی چھان بین کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹوں میں اس حوالے سے روسی فٹ بال فیڈریشن کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رومان شیروکوف کا ایک پیشہ ور فٹ بالر کے طور پر کیریئر کافی طویل تھا۔ وہ ماضی میں روسی فٹ بال کلب زَینِٹ سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے بھی کھیلتے رہے ہیں۔ وہ اس کلب کی اس ٹیم میں بھی شامل تھا، جس نے 2008ء کا یوئیفا کپ جیتا تھا۔ انہوں نے کل 57 انٹرنیشنل میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی، جس دوران کئی میچوں میں وہ روسی قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان بھی رہے تھے۔

م م / ک م (ڈی پی اے)

DW.COM