ریاست غافل ہو تو فرح جیسے دیپ جل پڑتے ہیں | دستک | DW | 11.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

ریاست غافل ہو تو فرح جیسے دیپ جل پڑتے ہیں

ہم میں سے  کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو بنا کسی غرض کے خدمت انسانی کا نعرہ لگاتے ہیں اور پھر اس نعرے کو محض نعرہ نہ سمجھ کر اس کی تکمیل کے لیے جان کھپا دیں۔

خدمتِ انسانی کے نعرے اس قدر دھندلائے ہوئے ہیں کہ ان پر ایمان لاتے ہوئے بھی دل ڈرتا ہے۔ مگر میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آج ایک خاتون کا ذکر کرنا چاہ رہی ہوں۔ بغیر ہچکچاہٹ کے اس لیے کہ میرا دل دماغ دونوں ہی اس کی خدمتِ انسانی کے جذبے کی گواہی دینے پر آمادہ ہیں۔ اس نے خدمتِ انسانی کا سفر انیس سال کی عمر میں ہی شروع کر دیا تھا۔ اس عمر میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں یا میرے آس پاس کے نوجوان اپنے مستقبل کے لیے فکر مند تھے۔ اس عمر میں اور سوچا بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر فرح دیبا اِس عمر میں اپنے آپ سے تھوڑا آگے نکل کر قوم کے بچوں کا سوچ رہی تھی۔ کم سنی میں بویا گیا یہ بیج اب پھل دار درخت کی صورت میں اور ایک ادارے کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔

فرح کوعام لوگوں سے ملاقاتیں کرنے اور ان کی کہانیاں سننے سنانے میں دلچسپی تھی۔ وہ لاہور کے امیر علاقوں کی کچی آبادیوں میں جا کر وہاں کے بچوں کو اکھٹا کر کے ان سے روزمرہ کی کہانیاں سنتی تھی۔ بدلے میں ان کو ٹافیاں دیتی اور بعد میں ان کہانیوں کو لکھنے کی کوشش کرتی۔ کہانیاں سنتے سنتے وہ موڑ آ گیا کہ جب سوچا گیا کہ کہانیوں سے بڑھ کر بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔ یہ موڑ بھی تب آیا جب ایک بچے نے کہانی سنائی اور ٹافی یا بسکٹ لینے کی بجائے قلم کی طرف اشارہ کر دیا کہ مجھے تو یہ چاہیے۔ اس اشارے کے بعد فرح ایک نئے سفر پر نکل گئی۔ بچوں کو ان کا بچپن دلوانے اور مستقبل سنوارنے کا سفر۔

اس انسان دوست نے پنجاب کے علاقے کوٹ لکھپت کے بچوں کو لکھنے اور پڑھنے کی تربیت دینا شروع کی۔ دراصل اس سفر کا آغاز 2005ء میں ایک درخت کے سائے میں شروع ہوا۔ وہ بچوں کو پکڑ پکڑ کر یہاں لاتی اور ان کو پڑھاتی ۔لیکن اکثر بچوں کے گھر والے انہیں وہاں ٹکنے نہیں دیتے تھے۔ جن کے گھر فاقے پڑے ہوں وہ کمائی کا وقت تعلیم میں کھپانے کا حوصلہ کم ہی کر پاتے ہیں۔

کرتے کراتے فرح نے چار مرلے کا مکان کرائے پر حاصل کر لیا، جس کا کرایہ وہ اپنی جیب اور ابا کے دیے ہوئے فنڈز سے ادا کرتی تھی۔ نہ صرف یہ کہ فرح نے تعلیمی و انتظامی ذمہ داریاں اپنی مدد آپ کے تحت سنبھالیں بلکہ گھر گھر جا کر تعلیم کی افادیت پر آگہی بھی فراہم کی۔ وہ لوگوں کو سمجھاتی تھی کہ  دو چار دن روکھی سوکھی کھا کر اگر بچوں کا مستقبل سنوار دیا جائے تو کئی نسلیں سنور جاتی ہیں۔ 

گھر گھر اس مہم کے نتیجے میں 60 بچوں نے اسکول میں داخلہ لے لیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ اور دوستوں نے اس مہم سے جڑنا شروع کیا اور اسکول کو چلانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ 2008 میں مشہور کالم نگار اور انسان دوست دانشور منو بھائی نے اسکول کا دورہ کیا اور اسکول پر کالم لکھ دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس اسکول کو کمیونٹی سے بھی فنڈز ملنا شروع ہوئے۔

اس تعلیمی ادارے کو عالم بی بی ٹرسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تعلیمی ماڈل کی بدولت پلے گروپ سے لے کر کالج تک کی ہی تعلیمی سہولیات ہی فراہم نہیں کیا جاتیں بلکہ ساتھ ساتھ ان بچوں کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے بھی مدد اور رہنمائی کی جاتی ہے۔ تعلیم کے علاوہ ان بچوں کی تربیت پر بھی کام کیا جاتا ہے تاکہ وہ بچے آگے چل کر  اچھے  اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔

2020ء کے اعدادوشمار کے مطابق یہاں پر1000 بچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ اور ان بچوں کو تب تک ادارے کا تعاون حاصل ہوتا ہے جب تک وہ معاشی طور پر خود انحصار نہیں ہو جاتے ۔ شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کی ذمہ داری ویسے تو ریاست کی ہے لیکن جب ریاست ہی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے تو فرح جیسے دیپ جل پڑتے ہیں۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کر پارہی۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریاست سماج میں فرح کی صورت میں جلنے والے دیوں کو احترام بھی نہیں دیتی۔ ریاست نہیں دیتی تو کیا ہم بھی نہ دیں؟