روس ہلیری کلنٹن کی ای میلز ہیک کرے، ٹرمپ | حالات حاضرہ | DW | 28.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس ہلیری کلنٹن کی ای میلز ہیک کرے، ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز کو ہیک کرے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ غیر ملکی جاسوسوں کو امریکی صدارتی انتخابی مہم میں مداخلت کی راہ دکھا رہے ہیں۔

اپنی ایک نیوز کانفرنس کے دوران ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کردہ ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اپنی حریف ہلیری کلنٹن کو کمزور امیدوار ثابت کرنے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر باراک اوباما کے خلاف ’نسلی الفاظ‘ ادا کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوٹن نے ٹرمپ کے صدر بننے کی صورت میں روس اور امریکا کے تعلقات کو عروج پر لے جانے کا وعدہ کیا ہے۔

ٹرمپ کے ان الفاظ پر ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منتظمین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے فوری طور پر یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ امریکی سیاسی جماعت ماسکو کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔

امریکی ڈیموکریٹس نے دوسری مرتبہ تاریخ رقم کر دی

کیا سیاہ فام امریکی ٹرمپ کو ووٹ دیں گے؟

ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے باقاعدہ طور پر بطور صدارتی امیدوار نامزدگی حاصل کرنے والی ہلیری کلنٹن کی ذات کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے کلنٹن کی وزارت خارجہ کے دور کی اُن 30 ہزار سے زائد ای میلز کا حوالہ بھی دیا جنہیں اس دلیل کے ساتھ ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا کہ وہ ذاتی نوعیت کی تھیں نہ کہ ان کی وزارتی ذمہ داریوں سے متعلق۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے کہا، ’’روس اگر تم سُن رہے ہو تو، مجھے امید ہے کہ تم وہ 30 ہزار ای میلز ڈھونڈ سکتے ہو جو غائب ہیں۔ میرا خیال ہے ہمارے پریس کی جانب سے شاید تمھاری بہت پذیرائی کی جائے گی۔‘‘

کلنٹن کے کیمپ کی طرف سے اس پر فوری اور شدید ردعمل سامنے آیا۔ کلنٹن کے سینیئر پالیسی ایڈوائزر جیک سلیوان کی طرف سے کہا گیا ہے، ’’یہ پہلا موقع ہو گا کہ ایک اہم صدارتی امیدوار نے عملی طور پر ایک غیر ملکی قوت کو دعوت دی ہے کہ اُس کے سیاسی حریف کے خلاف جاسوسی کی جائے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ تجسس کے اور سیاست کے معاملے سے بڑھ کر قومی سلامتی کا معاملہ بن گیا ہے۔‘‘

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے متعدد بار پوٹن کے لیے تعریفی کلمات ادا کیے جاتے رہے ہیں جبکہ وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لیے امریکا کے غیر مشروط تعاون کو ختم کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

ٹرمپ کے ان الفاظ پر ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منتظمین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے

ٹرمپ کے ان الفاظ پر ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منتظمین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے

ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’اگر روس یا کسی اور ملک یا شخص کے پاس ہلیری کلنٹن کی 33 ہزار غیر قانونی طور پر حذف شدہ ای میلز موجود ہیں، توشاید انہیں یہ ایف بی آئی کے ساتھ شیئر کرنی چاہییں۔‘‘

کریملن کی طرف سے امریکی انتخابات میں دخل اندازی کی تردید کی جاتی ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بدھ 27 جولائی کو صحافیوں کو بتایا، ’’روس نے نہ تو کبھی مداخلت کی ہے اور نہ وہ داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، خاص طور پر دیگر ممالک کے انتخابی عمل میں۔‘‘

اسی دوران ٹرمپ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ روسی رہنما کلنٹن یا اوباما کے لیے کوئی عزت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ کے مطابق، ’’میں ولادیمیر پوٹن کے خاندان کی دعوت کروں گا۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ داعش کو شکست دینے کے لیے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دیں گے۔

اشتہار