1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا سیاہ فام امریکی ٹرمپ کو ووٹ دیں گے؟

رواں برس کے امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ امریکا میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا سیاہ فام امریکی انہیں اپنے ووٹ کا حق دار خیال کریں گے۔

default

نیویارک شہر میں ٹرمپ مخالف مظاہرے کے شرکاء

امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ری پبلکن پارٹی کے کنونشن کے دوران ہال میں انسانوں کا ہجوم تھا اور یہ تقریباً سبھی سفید فام تھے۔ سیاہ فام امریکی خال خال دکھائی دے رہے تھے۔ امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے لیے ایفرو امریکن کی اصطلاح اب مستعمل ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی تاریخ کے پہلے افریقی امریکن وزیر خارجہ کولن پاؤل کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔ اسی طرح پہلی امریکی خاتون وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی سیاہ فام اور ریپبلکن سے تعلق رکھتی تھیں۔

امریکی ریاست اوہائیو میں ری پبلکن پارٹی کے اجلاس کے متوازی ایک اور مقام پر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کنونشن بھی جاری تھا۔ اس کنونشن میں افریقی امریکی خاصی تعداد شریک ہوئے۔ ان میں سے کئی ایک نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ساری افریقن امریکی کمیونٹی ٹرمپ کو ووٹ دے گی یا نہیں لیکن وہ اُن کی تقاریر سے خاصے مایوس ہیں۔

امریکی تجزیہ کاروں اور افریقی امریکی ناقدین کا خیال ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے مہاجرین، مسلمانوں، خواتین اور معذوروں کی تضحیک اور تویین کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا تھا۔ ان کے مطابق وہ نسلی تعصب رکھنے والے سفید فام افراد کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ ایفرو امریکن کی بعض نمائندہ تنظیموں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو غلامی کے دور میں پروان چڑھنے والی نسل کے ووٹ حاصل ہونے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔

USA Vorwahlen Donald Trump in Mississippi

ریپبلکن پارٹی کے افریقن امریکن انیشی ایٹو کے سربراہ کے مطابق اِس مناسبت سے حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے افریقن امریکن انیشی ایٹو شعبے کے انچارج ٹیلی لَولیس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی نامزدگی ابھی ہوئی ہے اور ابھی سے یہ کہہ دینا درست نہیں کہ افریقن امریکیوں کے ووٹ انہیں حاصل نہیں ہو گا۔ لَولیس نے مزید کہا کہ ٹرمپ نامزدگی حاصل کرنے کے بعد اپنی تقاریر کا مزاج تبدیل کرتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل و معاملات پر توجہ دیں گے اور مناسب انداز میں ان پر اظہارِ خیال بھی کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی کے افریقن امریکن انیشی ایٹو کے سربراہ کے مطابق اِس مناسبت سے حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

امریکا کی کُونی پیاک یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے تازہ ترین رائے عامہ کے جائزے میں بتایا گیا کہ ہلیری کنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں بظاہر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ جائزے کے مطابق کاروباری حلقوں کے سینتالیس فیصد افراد ٹرمپ کے حامی ہیں اور صرف سینتیس فیصد نے کلنٹن کو ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی جائزے کے مطابق افریقن امریکن کے اکانوے فیصد ووٹ کلنٹن کو حاصل ہونے کا قوی امکان ہے اور اِس بڑی کمیونٹی کی جانب سے ٹرمپ کے لیے بہت کم حمایت کا امکان ہے۔

DW.COM