روس اور پاکستان کے درمیان جنگی مشقیں | حالات حاضرہ | DW | 23.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور پاکستان کے درمیان جنگی مشقیں

روس اور پاکستان کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے پہلی مرتبہ روسی فوجی اہلکار پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ فوجی مشقیں چوبیس ستمبر سے شروع ہوں گی۔

Pakistan russische Truppen kamen zu Kriegsübungen an

یہ جنگی مشقیں ایک ایسے وقت میں شروع ہونے والی ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں خاصا اضافہ دیکھا جا رہا ہے

روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 فوجی جنگی مشقوں میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے،’’ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی عسکری مشقیں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو بڑھانے اور اسے مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔‘‘

ان روسی فوجیوں کی آمد کی توثیق کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہٴ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا،’’ روسی بری فوج کے 70 فوجی پہلی بارمشترکہ طور پر کرائی جانے والی جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے کیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔‘‘ یہ مشقیں 24 ستمبر سے 10 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔

Pakistan russische Truppen kamen zu Kriegsübungen an

70 روسی فوجی جنگی مشقوں میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں

یہ جنگی مشقیں ایک ایسے وقت میں شروع ہونے والی ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں خاصا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ 18 ستمبر کو اس کے فوجیوں پر کیے گئے حملے کے مبینہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستانی حکومت نے ان الزامات کی تردید کر دی ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق روس اور بھارت کے مابین بھی جنگی مشقیں جاری ہیں جن کا آغاز جمعرات کے روز سے ہوا تھا۔ ان مشقوں میں دونوں ممالک کے 250 فوجی شریک ہیں۔

DW.COM