رمضان میں مہنگائی: سماجی بد دیانتی یا ڈیمانڈ سپلائی کا مسئلہ
4 مارچ 2026
پنجاب حکومت نے رمضان کے مہینے میں اوورچارجنگ، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ صوبے بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، دکانداروں کو جرمانے ہو رہے ہیں اور لوگوں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ کارروائیاں وقتی طور پر بازاروں میں نظم و ضبط قائم کرتی دکھائی دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ صرف رمضان اور بازار تک محدود ہے؟
بعض ماہرین کے خیال میں دھوکہ دہی اور بددیانتی ہمارے معاشرے میں تہہ در تہہ پھیلا ہوا ہے۔ دفتر سے لے کر گلی محلے تک، لین دین میں شفافیت کم اور فائدہ اٹھانے کی کوشش زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اور کیا یہ رجحان صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے؟
سپلائی چین کی خرابی یا سماجی رویہ؟
رمضان کے مہینے میں پاکستان میں خوراک کی قیمتوں میں ہر سال واضح اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ چند روز قبل ڈان میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے رمضان کے دوران بنیادی خوراک کی قیمتیں اوسطاً ہر سال ستائیس فیصد تک بڑھی ہیں۔
معروف سماجی دانشور ڈاکٹر جعفر احمد رمضان کی مہنگائی کو ڈیمانڈ سپلائی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”رمضان میں مہنگائی کی بنیادی وجہ طلب میں اچانک اضافہ ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی مانگ زیادہ جبکہ رسد کم ہوتی ہے۔ سپلائی چین پر دباؤ بڑھتا ہے اور مارکیٹ میں قیمتیں بلند ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ سست اور مہنگی ہے، اسٹوریج کا سسٹم ناقص ہے، لوگ اشیاء سے زیادہ خراب سپلائی چین کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔"
وہ کہتے ہیں، ”اس مسئلے کا حل عارضی اقدامات جیسے چھاپے یا سبسڈیز نہیں بلکہ سپلائی چین کی اصلاح، شفافیت اور پیشگی منصوبہ بندی میں ہے۔"
سماجی دانشور احمد اعجاز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سپلائی ڈیمانڈ کا مسئلہ ہے مگر ان کے خیال میں یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والے عمومی دھوکہ دہی اور بددیانتی سے الگ نہیں۔
بددیانتی، پاکستانی معاشرے کا اخلاقی نہیں انتظامی بحران ہے
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے احمد اعجاز کہتے ہیں، ”مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رمضان میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، بلکہ سارا سال ہی بازار کا ماحول ایسا رہتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر دواؤں تک، کچھ بھی خریدتے ہوئے یا زندگی کا کوئی بھی معاملہ کرتے ہوئے یہی بدگمانی رہتی ہے فراڈ ہو گا، چیزیں معیاری نہیں ہوں گی، قیمت زیادہ وصول کی جا رہی ہو گی۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص کسی نہ کسی طرح فائدہ اٹھانے یا چکر دینے کی کوشش میں ہے۔"
وہ کہتے ہیں، ”ہمارے جیسے معاشرے سماجی طور پر اس لیے بددیانت نہیں کہ فطری طور پر لوگ ایسے ہیں، بلکہ جس نظام میں وہ پرورش پاتے ہیں وہ انہیں فراڈ پر مجبور کرتا ہے۔"
ان کے بقول، ”یورپ میں فلاحی ریاست کا تصور مضبوط ہے، صحت، تعلیم، بے روزگاری الاؤنس اور سوشل سکیورٹی جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ جب بنیادی ضروریات ریاست پوری کر رہی ہو تو لوگ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور اوورچارجنگ جیسی چھوٹی بددیانتیوں کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس تھرڈ ورلڈ ممالک میں کم آمدنی، مہنگائی اور غیر یقینی مستقبل لوگوں کو 'شارٹ کٹ‘ ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ ہر طرح کے مواقع میں کسی بھی طرح اپنی مالی پوزیشن بہتر کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔"
قائد اعظم یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈین ڈاکٹر محمد زمان اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ نسبتاً زیادہ بددیانت ہے۔
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”ہر معاشرے کی کچھ بنیادی قدریں اور اجتماعی رویّے ہوتے ہیں جو لوگوں کے روزمرہ فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اور نظام پر سماجی اعتماد کمزور ہے، قواعد و ضوابط کی پابندی کا ڈھانچہ بھی مضبوط نہیں۔ اسی لیے ایک عام سوچ بن گئی ہے کہ اگر موقع ملے تو ٹیکس چوری، رشوت یا ذخیرہ اندوزی کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔"
بددیانتی، نسل در نسل منتقل ہونے والا رویہ
معاشرے میں بددیانتی کے عمومی تاثر اور سماجی ڈھانچے کے حوالے سے ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں، ”جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ زیادہ تر سرکاری افسران، کاروباری ادارے اور سماجی ڈھانچے غیر دیانت دار ہیں تو وہ اپنے اخلاقی معیار خود ہی کم کر لیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ 'جب سب ہی ایسا کر رہے ہیں تو میں کیوں پیچھے رہوں؟‘ بلکہ اگر میں نے بددیانتی نہ کی تو سروائیول مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے فرد نہیں سسٹم ذمہ دار ہے۔"
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا احسن کے خیال میں، ”جب کسی معاشرے میں کوئی غلط رویہ عام قبولیت حاصل کر لے تو وہ آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے اور پھر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ سماج اس کے منفی اثرات کو محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بددیانتی اور دھوکہ دہی کے معاملے میں ہمارے ہاں ایسا ہی نظر آتا ہے۔"
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ مزید کہتی ہیں، ”اس طرح کی سماجی قبولیت کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بچے اور نوجوان اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نظام کی خرابیوں کا فطری جواب یہی ہے۔ یوں بے ایمانی ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک سیکھا ہوا اور نسل در نسل منتقل ہونے والا رویہ بن جاتی ہے۔"
سماج میں بددیانتی کیسے کم کی جائے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بددیانتی کی جڑیں محض فرد کے کردار میں نہیں بلکہ کمزور نظام اور عدم احتساب میں پیوست ہیں، اس لیے سب سے پہلا قدم ادارہ جاتی اصلاحات ہیں۔
ڈاکٹر زمان کہتے ہیں، ”قانون کا نفاذ یکساں اور فوری ہونا چاہیے تاکہ ٹیکس چوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت اور ملاوٹ جیسے جرائم پر یقینی سزا ملے۔ جب لوگوں کو یقین ہو کہ بچ نکلنا ممکن نہیں تو بددیانتی کا رجحان خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔"
احمد اعجاز کے بقول، ”دیانت داری کو محض مذہبی یا اخلاقی نصیحت کے بجائے عملی قدر بنایا جائے۔ اسکولوں، میڈیا اور گھریلو تربیت کے ذریعے یہ شعور پیدا کیا جائے کہ معمولی دھوکہ بھی اجتماعی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ جب معاشرہ بددیانت شخص کو ذہین نہیں بلکہ قابلِ مذمت سمجھے گا تو رویّے بدلنا شروع ہوں گے۔"
ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق اس کا حل معاشی انصاف اور شفافیت میں ہے۔
وہ کہتے ہیں، ”مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ لوگوں کو شارٹ کٹ کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ طاقت ور لوگوں کا باآسانی احتساب سے بچ نکلنا معاشرے میں عدم اطمینان اور تلخی کا باعث بنتا ہے۔ مالدار افراد جو چاہیں کریں اور ریڑھی والے پر شکنجہ کسا ہو تو کیسے معاشرے میں بہتری آئے گی؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو سہولیات اور انصاف فراہم کرے تاکہ درست سماجی رویے بوجھ بننے کے بجائے فطری انتخاب بنیں۔"
ادارت: جاوید اختر