دنیا کا قدیم ترین رنگ، تیز گلابی، سائنسی تحقیق | سائنس اور ماحول | DW | 10.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دنیا کا قدیم ترین رنگ، تیز گلابی، سائنسی تحقیق

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے دنیا میں موجود قدیم ترین رنگ دریافت کر لیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس حیاتیاتی قدرتی رنگ کی دریافت زمین پر زندگی کے رازوں پر روشنی ڈال سکے گی۔

سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہوئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تیز گلابی رنگ موریطانیہ کے صحرائے صحارا میں موجود ایک اعشاریہ ایک بلین سال پرانی چٹانوں کی گہرائی میں ایک سلیٹی پتھر کے نیچے مائیکرو اسکوپک سائینو بیکٹیریا نے چھوڑا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ رنگ اس وقت تک دریافت ہونے والا قدیم ترین رنگ ہے اور یہ اس سے قبل دریافت ہونے والے رنگ سے نصف بلین برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے منسلک سائنسدان نور گوئینیلی، جنہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کی ریسرچ کے دوران یہ تیز گلابی رنگ دریافت کیا، کا کہنا ہے،’’برائیٹ پنک حیاتیاتی رنگ کلوروفل کی مالیکیولی باقیات ہیں۔ یہ رنگ ایک قدیمی ناپید سمندر میں رہنے والے قدیمی فوٹو سینتھیٹک نامیاتی اجسام کی پیداوار ہے۔‘‘

سائنسدانوں نے اس رنگ کو حاصل کرنے اور ان پرانے ترین اجسام پر تحقیق کرنے سے پہلے اربوں سال پرانے چٹانی پتھروں کو توڑ کر اُن کا پاؤڈر حاصل کیا۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ باقیات کثیف صورت میں گہرے سرخ سے گہرے جامنی اور پتلی شکل میں تیز گلابی رنگ کی حامل ہیں۔

 گوئینیلی کا کہناہے کہ ان قدیمی باقیات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اربوں سال پہلے سمندر میں فوڈ چین پر سائینو بیکٹیریا کا غلبہ تھا جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس وقت جانور کیوں موجود نہیں تھے۔

اس تحقیق میں استعمال کیے جانے والی قدیم چٹانی پتھر تیل کی ایک کمپنی نے یونیورسٹی بھیجے تھے جو صحرائے صحارا میں تیل تلاش کر رہی تھی۔  

ص ح / ع ت / ڈی پی اے

Audios and videos on the topic

اشتہار