داعش کے ہزاروں قیدی شام سے عراق منتقل کر دیے، امریکی فوج
13 فروری 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) نے اعلان کیا ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کا مشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں اور بغداد کو مالی مدد بھی درکار ہو گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 23 روزہ منتقلی کا مشن 21 جنوری کو شروع ہوا تھا، جس کے دوران 5 ہزار 700 سے زائد بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو شام کی حراستی تنصیبات سے عراق منتقل کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس منظم اور محفوظ کارروائی سے شام میں داعش کی دوبارہ سرگرمیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ منتقلی شمال مشرقی شام میں شامی سرکاری افواج کی جانب سے کرد قیادت میں قائم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف تیز رفتار کارروائی کے بعد شروع کی گئی۔ ایس ڈی ایف امریکہ کی اتحادی رہی ہے اور برسوں سے داعش قیدیوں اور جیلوں کی نگرانی کر رہی تھی۔
29 جنوری کو امریکا نے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کرایا، جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو مرحلہ وار مرکزی ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر روئٹرز سے گفتگو میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ اب تک تقریباً 3 ہزار قیدیوں کو عراقی جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بغداد بعض عرب اور مسلم ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لینے پر آمادہ ہوں۔ فواد حسین کے مطابق اگر ہزاروں شدت پسند طویل عرصے تک عراق میں رہتے ہیں تو یہ سکیورٹی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے عراق کو مختلف ممالک سے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم امریکی قیادت میں اتحاد نے پانچ برس بعد اسے بڑی حد تک شکست دی۔ اس کے باوجود تنظیم کے باقی ماندہ عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔ امریکی فوج نے 21 جنوری کو کہا تھا کہ وہ مجموعی طور پر سات ہزار داعش قیدیوں کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ شام میں حالیہ جھڑپوں کے بعد داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عراقی سرحد کے قریب ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق شام میں بہت سے لوگ اب بھی اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکہ عراق کی مدد کر رہا ہے لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں بعض معاملات پر تناؤ موجود ہیں۔ جنوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نواز سابق وزیر اعظم نوری المالکی کو دوبارہ منتخب کیا گیا تو واشنگٹن تعاون ختم کر سکتا ہے۔
فواد حسین نے کہا کہ عراق ان اشاروں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، تاہم یہ ایک داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا 2026 کے اختتام تک متوقع ہے۔
ادارت: عدنان اسحاق